لیاری گینگ وار کا ملزم دو مقدمات سے بری،تفتیشی افسران سے وضاحت طلب
دس سال بعد کی جانے والی شناخت پریڈ اور پولیس کے سامنے اعتراف جرم ناقابل قبول،عدالت نے نامناسب ، ناقص تفتیش اور متضاد شواہد کی بنیاد پر ملزم کو شک کا فائدہ دے دیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر) انسداد دہشتگردی عدالت نے لیاری گینگ وار کے ملزم محمد سلام عرف ملا نثار کو اغوا، قتل اور پولیس مقابلے کے دو مقدمات میں شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔عدالت نے ناقص تفتیش اور شواہد میں سنگین نقائص پر دونوں مقدمات کے تفتیشی افسران سے وضاحت بھی طلب کرلی۔ جیل کمپلکس میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ایاز مصطفیٰ جوکھیو نے مقدمات کا فیصلہ سنایا۔ ملزم ملا نثار کے خلاف مقدمات لیاقت آباد سپر مارکیٹ اور کلاکوٹ تھانوں میں درج کیے گئے تھے ۔ عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ کے اہم گواہان نے ملزم کی شناخت سے متعلق قابل اعتماد شہادت پیش نہیں کی۔ وقوعے کے تقریباً دس برس بعد کی جانے والی شناخت پریڈ کو قابل اعتماد تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے مطابق پولیس کے سامنے ملزم کا مبینہ اعتراف جرم بھی ناقابل قبول ہے ، کیونکہ ملزم کا اعترافی بیان مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ طبی شواہد موت یا زخموں کی نوعیت کی تصدیق کرسکتے ہیں تاہم حملہ آور کی شناخت نہیں کرسکتے ۔ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ واقعے میں تین افراد کی موت واقع ہونا ایک حقیقت ہے ، تاہم کسی شخص کی موت کا واقع ہونا بذاتِ خود ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ مقدمات میں پیش کیے گئے شواہد متضاد جبکہ تفتیش نامناسب اور ناقص ہے ۔ جج ایاز مصطفیٰ جوکھیو نے دونوں مقدمات کے تفتیشی افسران کو ناقص تفتیش کی وضاحت پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملزم محمد سلام عرف ملا نثار کو شک کا فائدہ دے کر دونوں مقدمات سے بری کردیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments