ایچ آئی وی کیس،وکلا اور متاثرین کا شدید شور شرابہ

ایچ آئی وی کیس،وکلا اور متاثرین کا شدید شور شرابہ

علاج کے لیے سود پر پیسے لینے پر مجبور ،چارپائیاں تک فروخت کردیں ،والدین درخواست زیر التوا ہونے کے دوران 9 بچے ہلاک ہوچکے ہیں،وکیل طارق منصور

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج بچوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران متاثرہ بچوں کے اہلخانہ اور سماجی کارکن ذوالفقار جونیئر عدالت میں پیش ہوئے ۔ سماعت کے دوران وکلا اور متاثرین کے شدید شور شرابہ پر ججز کمرہ عدالت سے اٹھ کر چیمبر میں چلے گئے ۔ درخواست گزار کے وکیل طارق منصور نے عدالت کو بتایا کہ درخواست زیر التوا ہونے کے دوران 9 بچے ہلاک ہوچکے ہیں، عدالت سے حقائق چھپائے جا رہے ہیں اور انکوائری رپورٹ بھی سامنے نہیں لائی جا رہی۔

سماعت کے دوران متاثرہ خاتون نشاط، عائشہ کامران اور دیگر متاثرین بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ عائشہ کامران نے عدالت کو بتایا کہ ایک بیڈ پر چار سے پانچ بچے رکھے جاتے تھے اور ایک سرنج بار بار استعمال کی جارہی تھی۔ جسٹس عدنان کریم نے استفسار کیا کہ آپ باہر سے جاکر سرنج لے آتے ، آپ نے انجیکشن لگانے سے روکا کیوں نہیں؟ متاثرہ بچے کے والد عمر نے بتایا کہ ان کے تین بچے ہیں اور تمام بچوں کو ایک ہی سرنج لگائی جارہی تھی۔ عدالت میں موجود متاثرہ بچوں کے والدین نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے علاج کے لیے سود پر پیسے لینے پر مجبور ہیں۔ ایک والد نے کہا کہ بچوں کے علاج کے لیے اپنی چارپائیاں تک فروخت کردی ہیں، لیکن انہیں حکومت کی جانب سے ایک روپے تک کی امداد نہیں ملی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...