سندھ پبلک سروس کمیشن : مصنوعی ذہانت متعارف کرانے کا فیصلہ

سندھ پبلک سروس کمیشن : مصنوعی ذہانت متعارف کرانے کا فیصلہ

امتحانی و بھرتی نظام کو شفاف، موثر اور جدید بنانے کے لیے مرحلہ وار ڈیجیٹل ٹیکنالوجی استعمال ہوگی،ورک اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے ، چیف سیکریٹریآصف حیدر شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں ٹیکنالوجی سے آراستہ میٹرک، انٹر اور دیگر سرکاری امتحانات میں بھی مصنوعی ذہانت متعارف کرانے کا منصوبہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر)حکومت سندھ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے بھرتی اور امتحانی نظام میں مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے ، جس کا مقصد امتحانات اور بھرتی کے مجموعی نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانی اور بھرتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی علی راشد، چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن رضوان احمد، سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے شرکت کی۔

ابتدائی طور پر مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام کا اطلاق سندھ پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام جاری امتحانات پر کیا جائے گا اور اسے مرحلہ وار متعارف کرایا جائے گا۔ بعد کے مراحل میں تمام امتحانات اور بھرتی کے عمل کو بین الاقوامی سطح پر رائج مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈیولز اور جدید ڈیجیٹل بھرتی نظام کی جانب منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری نے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا چاہتی ہے، خصوصاً ایسے شعبوں میں جہاں اس کے ذریعے انتظامی کارکردگی اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی ایس سی کے امتحانی اور بھرتی نظام میں مصنوعی ذہانت اور دیگر ڈیجیٹل طریقہ کار کے ذریعے غیر ضروری انسانی تعامل کو کم سے کم سطح پر لانا مقصود ہے ، تاہم میرٹ، شفافیت اور انصاف کے اصولوں کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔

چیف سیکریٹری نے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں ٹیکنالوجی سے آراستہ ورک اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے تاکہ ڈیجیٹل امتحانی نظام کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جاسکے اور سندھ بھر کے امیدواروں کو جدید امتحانی سہولیات تک رسائی حاصل ہو۔انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی امتحانی نظام صرف سندھ پبلک سروس کمیشن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ آئندہ مراحل میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ تعلیمی بورڈز کے امتحانات، دیگر اہم سرکاری امتحانات اور صوبے میں بھرتی کے مختلف مراحل میں بھی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ مجوزہ نظام کو مرحلہ وار اور مناسب حفاظتی انتظامات کے ساتھ نافذ کیا جائے گا جبکہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے موجودہ قواعد و ضوابط اور ادارہ جاتی نگرانی برقرار رکھی جائے گی۔اجلاس میں صوبے کے مختلف مقامات پر ٹیکنالوجی سے آراستہ ورک اسٹیشنز کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...