غیر قانونی اڈے،تجاوزات ،ٹریفک نظام درہم برہم
بس ٹرمینل کے اطراف سروس روڈ، گرین بیلٹ اور فٹ پاتھوں پر بسوں، وینوں کی پارکنگ سے ٹریفک جام معمول بن گیا، پیدل چلنے والے بھی پریشانعدالتی احکامات کے باوجود مبینہ غیرقانونی اڈوں اور تجاوزات پر کارروائی نہ ہونے پر شہریوں کا اظہارِ تشویش، فوری نوٹس لینے اور تجاوزات ختم کرنے کا مطالبہ
کراچی(این این آئی)سندھ ہائی کورٹ میں بین الصوبائی بس اڈوں کی منتقلی کے حکومتی دعوے کے باوجود مرکزی بس ٹرمینل کے اطراف مبینہ غیرقانونی اڈے قائم ہونے ، سروس روڈ اور گرین بیلٹ پر بسوں اور وینوں کی پارکنگ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ شہریوں اور ٹرانسپورٹرز نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ذرائع کے مطابق ٹرمینل میں پارکنگ کی جگہ کم ہونے کے باعث بسیں اور وینیں ٹرمینل سے باہر سروس روڈ اور گرین بیلٹ پر کھڑی کی جا رہی ہیں۔ الزام ہے کہ بعض مقامات پر بس اور وین مالکان سے پارکنگ اور اڈہ فیس کے نام پر رقم وصول کی جا رہی ہے ، تاہم ان مالی معاملات اور وصولیوں کی آزادانہ یا سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی۔شہریوں نے کہا کہ سروس روڈ اور فٹ پاتھوں پر گاڑیوں کی بڑی تعداد کھڑی ہونے سے الٰہ آصف سے کراچی بس ٹرمینل اور جمالی پل تک ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور بدترین ٹریفک جام معمول بنتا جا رہا ہے ۔ پیدل چلنے والوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔ذرائع کے مطابق ٹرمینل کے گیٹ نمبر دو کے قریب سروس روڈ پر مبینہ طور پر ایک جوس اور بریانی سینٹر بھی قائم کردیا گیا ہے ، جس کے حوالے سے ماہانہ کرایہ وصول کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے ، تاہم اس کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی سندھ کی جانب سے کراچی کی حدود سے باہر بین الصوبائی اور بین الاضلاعی بس اسٹینڈز منتقل کرنے کے احکامات پر عمل درآمد کرلیا گیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر کراچی وسطی کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی تھی جبکہ درخواست گزار کے وکیل نے تعمیل ہونے کا اعتراف کیا جس کے بعد عدالت نے درخواست نمٹا دی تھی،تاہم شہریوں نے کہا کہ عدالتی کارروائی کے باوجود ٹرمینل کے اطراف زمینی صورتحال میں متعدد مسائل موجود ہیں۔ ان کا سوال ہے کہ اگر عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد ہوچکا ہے تو سروس روڈ، گرین بیلٹ اور فٹ پاتھوں پر مبینہ غیرقانونی اڈے کس بنیاد پر قائم ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔شہریوں نے کمشنر کراچی، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ، ڈی آئی جی ٹریفک، ڈی آئی جی ایسٹ، ایس پی سچل اور ڈپٹی کمشنر ایسٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ٹرمینل کے اطراف کا فوری معائنہ کیا جائے ، سروس روڈ اور گرین بیلٹ سے غیرقانونی اڈے اور تجاوزات ختم کرائی جائیں اور ٹریفک کی روانی بحال کی جائے ۔شہریوں نے ڈی آئی جی ٹریفک سے بھی فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments