غیر ملکی انشورنس ڈیٹا سے سائبر فراڈ، ملزمان کی ضمانت مسترد
ملزمان کے ڈیجیٹل آلات سے خفیہ معلومات اور متاثرین کا ڈیٹا برآمد ہواعالمی مالی جرائم عام نوعیت کے نہیں، ملک کی ساکھ متاثر ہوسکتی ، عدالت
کراچی (اسٹاف رپورٹر)جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی گلریز میمن نے غیر قانونی کال سینٹر کے ذریعے غیر ملکیوں کے خفیہ انشورنس ڈیٹا استعمال کرکے سائبر فراڈ کے مقدمے میں گرفتار دو ملزمان حیدر عمرانی اور ایان نجیب کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ بادی النظر میں ملزمان کے خلاف مضبوط شواہد موجود ہیں۔ ملزمان سے برآمد کیے گئے ڈیجیٹل آلات میں غیر ملکی شہریوں کی انشورنس سے متعلق خفیہ معلومات اور متاثرین کا ڈیٹا موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اے ڈی لیگل این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ این سی سی آئی اے نے گلستان جوہر میں دونوں ملزمان کو گرفتار کیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان غیر ملکی شہریوں کے خفیہ انشورنس ڈیٹا کے ذریعے فراڈ میں ملوث ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ عمومی اصول کے تحت غیر ممنوعہ دفعات کے مقدمات میں ضمانت دی جاسکتی ہے تاہم جہاں عوامی مفاد متاثر ہونے کا خدشہ ہو وہاں ضمانت مسترد کی جاسکتی ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ سائبر فراڈ یا بین الاقوامی سطح کے مالی جرائم عام نوعیت کے جرائم نہیں ۔ غیر ملکی شہریوں کے ساتھ فراڈ سے ملک کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے ۔ عدالت کے مطابق ملزمان کی رہائی کی صورت میں ڈیجیٹل ریکارڈ میں ردوبدل، ڈیٹا ختم کرنے یا غیر قانونی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا خدشہ موجود ہے ۔ عدالت نے ان وجوہات کی بنیاد پر ملزمان حیدر عمرانی اور ایان نجیب کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments