ڈاؤ یونیورسٹی میں نیکسٹ جنریشن بایوسیکیورٹی ورکشاپ

ڈاؤ یونیورسٹی میں نیکسٹ جنریشن بایوسیکیورٹی ورکشاپ

سائنس، صحتِ عامہ، قومی سلامتی اور لیبارٹری رسک مینجمنٹ کے ماہرین کی شرکت

کراچی(سٹی ڈیسک)ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے سندھ انفیکشس ڈیزیزز اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر میں قائم ایمرجنگ انفیکشس ڈیزیزز ریسرچ لیبارٹری میں ’’نیکسٹ جنریشن بایوسیکیورٹی‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ منعقد کی، جس میں سائنس، صحتِ عامہ، قومی سلامتی اور لیبارٹری رسک مینجمنٹ کے ماہرین نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا افتتاح ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نازلی حسین نے کیا، جبکہ ڈاکٹر عبد الواحد راجپوت نے استقبالیہ کلمات پیش کیے ۔پروفیسر ڈاکٹر نازلی حسین نے کہا کہ ٹیکنالوجی غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہے، اس لیے مستقبل کے بایوسیکیورٹی چیلنجز کی پیشگی نشاندہی اور ان سے نمٹنے کی تیاری ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹی کی حیثیت سے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اداروں کے درمیان علم کے تبادلے اور استعدادِ کار بڑھانے کے لیے پرعزم ہے ۔وزارتِ خارجہ کے ACDIS-II کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم عدیل نے آن لائن سیشن میں پاکستان کے بایوسیکیورٹی منظرنامے اور عالمی فریم ورک پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر بلال احمد خان نے بتایا کہ بایوسیکیورٹی صرف پیتھوجنز کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ حیاتیاتی مواد، حساس معلومات، تحقیق، آلات، تکنیکی مہارت اور دانشورانہ ملکیت کا تحفظ بھی اس کا حصہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اندرونی خطرات  غفلت، ناقص تربیت سے بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...