سانحہ گل پلازہ میں حکومتی نااہلی بے نقاب ،سیف الدین

سانحہ گل پلازہ میں حکومتی نااہلی بے نقاب ،سیف الدین

کمیشن رپورٹ سے کے ایم سی کے ماتحت تمام اداروں کی تباہی کھل کر سامنے آگئیکمیشن دستانے پہنی حکومت کے ذمہ دار افراد اور اداروں کے واضح تعین میں ناکام رہا

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشنل کمیشن کی انکوائری رپورٹ پر اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل سیف الدین ایڈووکیٹ نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گل پلازہ کمیشن کی رپورٹ سے سندھ حکومت اور کے ایم سی کے ماتحت حکومتی تمام اداروں کی تباہی کھل کر سامنے آگئی،رپورٹ سے ظاہر ہے کہ سندھ میں گورننس نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے ۔سندھ میں اداروں کی تباہی کی وجہ رشوت، سفارش پر تعیناتیاں، بدترین کرپشن اور جوابدہی کا فقدان ہے ،کمیشن دستانے پہنی حکومت کے ذمہ دار افراد اور اداروں کے واضح تعین میں ناکام رہا، کمیشن کی رپورٹ میں ذمہ داران کا تعین کرنے کے بجائے اشعار پر اکتفا کیا گیا ہے ،سندھ حکومت کی جانب سے اپریل میں جمع شدہ رپورٹ 5 ماہ بعد جاری کرنا دامن پر لگے دھبوں کو چھپانے کی کوشش ہے ،سانحہ پمز کی آڑ میں کسی عدالتی حکم کے ڈر سے گل پلازہ کمیشن کی رپورٹ جاری کی گئی،رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں، قانونی مشاورت کے بعد اعلی عدلیہ سے رجوع کریں گے ، سیف الدین ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ 72 انسان لقمہ اجل بن گئے لیکن کمیشن انتظامی نااہلی اور کے ایم سی کی مجرمانہ غفلت کے ذمہ داران کا تعین نہ کرسکا،مرتضی وہاب فائر بریگیڈ، واٹر بورڈ اور سٹی وارڈن جیسے اہم اداروں کے سربراہ ہونے کے باوجود 23 گھنٹے بعد گل پلازہ پہنچے ، 36 گھنٹے آگ لگی رہی، انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی رپورٹ میں میئر کراچی اور کمشنر کراچی کی ذمہ داری کا تعین انتہائی ضروری تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...