جماعت اسلامی کارکنان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

جماعت اسلامی کارکنان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

عدالت کا تفتیشی افسر کو 14روز میں مقدمے کا چالان پیش کرنے کا حکم سیاسی کارکنان کو جھوٹا مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا گیا ،طاہر اقبال ایڈووکیٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) انسداد دہشت گردی منتظم عدالت نے جلاؤ گھیراؤ، کارِ سرکار میں مداخلت اور دہشت گردی کے الزامات میں کورنگی سے گرفتار جماعت اسلامی کے 6 کارکنان کا جسمانی ریمانڈ دینے کی پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے تمام ملزمان کو جیل بھیج دیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو 14 روز میں مقدمے کا چالان پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ پولیس نے جماعت اسلامی کے گرفتار کارکنان کو انسداد دہشت گردی منتظم عدالت میں پیش کیا اور ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان کے خلاف جلاؤ گھیراؤ، کارِ سرکار میں مداخلت اور دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے ۔ ملزمان کی جانب سے طاہر اقبال ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔ وکیل نے پولیس کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنان کو جھوٹا مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا گیا ہے ۔ طاہر اقبال ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کے مطابق کارکنان صبح 6 بجے دکانیں بند کروا رہے تھے ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کراچی کے کون سے علاقے میں صبح 6 بجے دکانیں کھلتی ہیں کہ کارکنان انہیں بند کروانے پہنچ گئے ۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے جماعت اسلامی کے سیاسی کارکنان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا ہے ۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پولیس کی جانب سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی اور تمام 6 ملزمان کو جیل بھیج دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...