سرکاری سکولوں میں میڑک کے طلبہ کی تعداد انتہائی کم
محکمہ تعلیم نے ایسے سکولوں کا ریکارڈ اکٹھا کرنا شروع کردیا ہے جہاں میٹرک کی کلاس میں 20 سے بھی کم طلبہ رجسٹرڈ ،سینٹ فرانسسز میں صرف 10بچے داخل محکمہ تعلیم کا ایسے سکولوں سے ہائی کا درجہ واپس لیکر مڈل کا درجہ دینے پر غور:ذرائع ،ہائی کادرجہ ختم کرنے سے اساتذہ ، عملے کی ایڈجسٹمنٹ چیلنج :سی ای او طارق محمود
لاہور(خبر نگار)پنجاب کے سرکاری سکولوں میں میٹرک کی کلاس میں طلبہ کی تعداد انتہائی کم ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔محکمہ تعلیم نے ایسے سکولوں کا ریکارڈ اکٹھا کرنا شروع کردیا ہے جہاں میٹرک کی کلاس میں 20 سے بھی کم طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔لاہور کے گورنمنٹ ہائی سکول سینٹ فرانسسز نیو انارکلی میں میٹرک کے لیے 10 سے کم طلبہ داخل ہیں۔گورنمنٹ پاکستان ماڈل سکول رحمان پورہ اور گورنمنٹ ہائی سکول سنت نگر سمیت دیگر سکولوں میں بھی میٹرک کے طلبہ کی تعداد انتہائی کم ہے ۔محکمہ تعلیم کے مطابق پنجاب بھر میں سینکڑوں سکول ایسے ہیں جہاں میٹرک کی کلاس میں طلبہ کی تعداد 20 سے کم ہے ۔محکمہ تعلیم ایسے سکولوں سے ہائی کا درجہ واپس لے کر انہیں مڈل سکول کا درجہ دینے پر غور کررہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جن سکولوں کو مڈل کا درجہ دیا جائے گا، وہاں زیر تعلیم میٹرک کے طلبہ کو قریبی سکولوں میں منتقل کیا جائے گا، تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔دوسری جانب لاہور میں نویں جماعت کے خراب نتائج پر بھی محکمہ تعلیم نے سخت کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے ۔طلبہ کی تعداد کم ہونے سے تعلیمی امور بخوبی انجام دینا مشکل ہوتا ہے۔سی ای او ایجوکیشن لاہور طارق محمود کے مطابق 30 فیصد سے کم نتائج دینے والے سکولوں سے جواب طلبی کرلی گئی ہے ۔نویں جماعت کے خراب نتائج پر سخت کارروائی کی جائے گی، جبکہ 30 فیصد سے کم نتائج والے سکولوں سے جواب طلبی کرلی گئی ہے ۔کم طلبہ والے سکولوں کا ہائی کا درجہ ختم کرنے کی صورت میں محکمہ تعلیم کے اخراجات میں کمی تو ممکن ہے ، تاہم ان سکولوں میں تعینات اساتذہ اور دیگر عملے کی ایڈجسٹمنٹ بھی ایک اہم چیلنج ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments