ایس بی سی اے : لیاری میں مخدوش عمارتوں کے خلاف انہدامی کارروائی تیز

ایس بی سی اے : لیاری میں مخدوش عمارتوں کے خلاف انہدامی کارروائی تیز

متعدد خطرناک عمارتوں کی مسماری مکمل، کئی مقامات پر ملبہ ہٹانے کا کام جاری، جانوں کے تحفظ کیلئے شہریوں سے تعاون کی اپیل سرکاری کارروائی میں غیر قانونی رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی،وزیربلدیات

کراچی (این این آئی)سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے ) نے کراچی بالخصوص لیاری کے مختلف علاقوں میں خطرناک اور مخدوش عمارتوں کے خلاف کارروائی مزید تیز کردی ہے ، متعدد عمارتوں کی مسماری مکمل کرلی گئی جبکہ کئی مقامات پر انہدام کا عمل جاری ہے ۔ایس بی سی اے کی 9 ستمبر کی تازہ رپورٹ کے مطابق کھڈا اور دریا آباد میں پلاٹ نمبر 1339، 3162، 3940 اور 3146 پر قائم مخدوش عمارتوں کی مسماری مکمل ہونے کے بعد ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے ۔ اسی طرح نوا آباد کی گلی نمبر 12 اور 14 سمیت مختلف مقامات پر پلاٹ نمبر 2555، 2666 اور 2035 کی عمارتوں کو منہدم کرنے کی کارروائی بھی جاری ہے ۔

رپورٹ کے مطابق دریا آباد میں بلال مسجد کے سامنے گلی نمبر 6 کے پلاٹ نمبر 3111 پر قائم عمارت کے خلاف مبینہ سیاسی و علاقائی اثر و رسوخ کے باعث کارروائی شروع نہیں ہوسکی۔ ایس بی سی اے نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔دوسری جانب بہار کالونی کے پلاٹ نمبر 415 اور 415-A جبکہ دریا آباد کے پلاٹ نمبر 3168 کی دوسری منزل پر رہائش یا قبضے کے باعث فی الحال مسماری کا عمل روک دیا گیا ہے ۔

سید ناصر حسین شاہ اور ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے ڈاکٹر وسیم شمشاد نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے خطرناک اور مخدوش عمارتیں فوری طور پر خالی کردی جائیں اور ایس بی سی اے کی کارروائی میں تعاون کیا جائے ۔انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے ، کسی بھی خطرناک عمارت میں رہائش اختیار کرنا جانی نقصان کا سبب بن سکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی خلاف ورزی یا سرکاری کارروائی میں غیر قانونی رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...