میرپور خاص:ضلع کونسل اجلاس میں بنیادی مسائل پراحتجاج
ایک خاتون سرکاری ٹیچر کیساتھ ٹاؤن افسر کے عہدے پربھی براجمان، کونسلرصحت، تعلیم اور آبپاشی کے سنگین مسائل، اسپتال ریفرل سینٹر بن چکے ، خطاب
میرپور خاص (بیورو رپورٹ)ضلع کونسل اجلاس چیئرمین میر انور ٹالپر کی زیر صدارت ہوا جس میں وائس چیئرمین میر احمد علی خان ٹالپر سمیت کونسلرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس میں اراکین نے ضلع بھر میں صحت، تعلیم اور آبپاشی کے سنگین مسائل پر شدید احتجاج کرتے ہوئے افسران کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیئے ، کونسلر جاوید جونیجو نے انکشاف کیا کہ سندھڑی میں اساتذہ نہ سے 107 اسکول بند ہیں، انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ کنیز بختاور نامی خاتون ایک طرف سرکاری ٹیچر ہے تو دوسری جانب ٹاؤن آفیسر کے عہدے پر بھی تعینات ہے اور دو جگہوں سے تنخواہ وصول کر رہی ہے ۔کونسلرز نے کہا کہ میرپورخاص کے تقریباً تمام اسپتال ریفرل سینٹر بن چکے ہیں۔
آبپاشی کے مسئلے پر اراکین نے کہا کہ نارا کینال میں 14 ہزار کیوسک پانی موجود ہونے کے باوجود 7 سے 15 دن کی وارہ بندی کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پھلتھورو شہر کو پینے کے پانی کی فراہمی پہلے کھپرو کینال کی ایک شاخ سے ہوتی تھی، اب اسے پائپ لائن کے ذریعے مٹھڑاؤ کینال سے براہ راست لیا جا رہا ہے ، جس سے مٹھڑاؤ کینال کے ٹیل والے علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگی۔ کنیز بختاور کے دوہری تنخواہ پر چیئرمین میر انور ٹالپر نے نوٹس لیتے ہوئے ڈی ای او سے استفسار کیا ڈی ای او میر فضل ٹالپر نے بتایا کہ مذکورہ لیڈی ٹیچر کے معاملے کی انکوائری کر کے اس کی تنخواہ بند کرنے اور وصول شدہ رقم واپس لینے کے لیے ٹریژری آفس کو تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے ، تاہم تاحال تنخواہ بند نہیں ہو سکی۔
اجلاس میں کونسلرز خادم بھرانی، حاجی نور حسن چانڈیو، رسول بخش مری، عظمینہ، محمد جمن مری، نادر علی، لیموں چانڈانی، حیدر جروار اور دیگر نے اپنے علاقوں کے مسائل بیان کیے ۔ تعلقہ سندھڑی کے کونسلرز حیدر جروار اور محمد جمن مری نے کہا کہ سندھڑی کے کسی بھی صحت مرکز میں ایمبولینس موجود نہیں، حادثے کی صورت میں میرپورخاص سے ایمبولینس منگوانی پڑتی ہے یا زخمیوں کو چنگ چی رکشوں میں لانا پڑتا ہے جس کے باعث کئی افراد راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ ڈگری کے کونسلرز نے بتایا کہ ٹنڈو جان محمد اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیلئے نکالے گئے اعضا رکھنے کیلئے برنیاں تک دستیاب نہیں جو لواحقین کو خود لانی پڑتی ہیں۔کونسلرز کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے ڈی ای او پرائمری نبی بخش گرگیج نے کہا کہ سندھڑی کے 107 اسکولوں کا معاملہ زیر غور ہے ، اساتذہ تعینات کیے گئے تھے مگر کچھ اساتذہ عدالت سے رجوع کر گئے جس سے مسئلہ پیدا ہوا، جلد عدالت سے ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments