اغوا،تشددکے ملزم کی بعدازگرفتاری ضمانت مسترد
دستیاب شواہد سے بادی النظر میں ملزم کا واقعے سے تعلق سامنے آتا ہے ملزم ضمانت کا حق ثابت کرنے میں ناکام رہا،جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کا فیصلہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر)جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے شہری کو مبینہ طور پر اغوا، تشدد، دھمکانے اور ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے مقدمے میں نامزد ملزم علی فیصل کی بعد از گرفتاری ضمانت مسترد کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزم ایف آئی آر میں شریک ملزمان کے ساتھ واضح اور فعال کردار کے ساتھ نامزد ہے ، جبکہ میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ میں مدعی کو پیش آنے والے واقعے کے دوران متعدد زخموں کا ذکر ہے ۔ عدالت کے مطابق دستیاب شواہد سے بادی النظر میں ملزم کا واقعے سے تعلق سامنے آتا ہے اور ملزم نے مدعی کو دیگر شریک ملزمان سے ملوانے میں کردار ادا کیا، جس کے بعد مبینہ طور پر مدعی کو تشدد کا نشانہ بنا کر ویڈیو بنائی گئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ وائرل ویڈیو کی اصلیت اور اس میں ممکنہ ردوبدل سے متعلق معاملہ فارنزک شواہد اور ٹرائل کے دوران شہادت ریکارڈ ہونے کے بعد طے ہوگا، جبکہ ملزم کی جانب سے پیش کی گئی واٹس ایپ چیٹ بھی دفاعی نوعیت کی ہے جسے اس مرحلے پر حتمی طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو معاملہ صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں بلکہ اغوا، غیر قانونی حبس، مجرمانہ دھمکی، تذلیل اور الیکٹرانک ذرائع سے ویڈیو پھیلانے سے متعلق ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ مقدمے میں عائد دفعات کی سزائیں ممنوعہ شق کے دائرے میں نہیں آتیں، تاہم ملزم ضمانت کا حق ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments