لاڑکانہ:تنخواہ سے کٹوتی کیخلاف کلاسز، امتحانی بائیکاٹ کا اعلان

لاڑکانہ:تنخواہ سے کٹوتی کیخلاف کلاسز، امتحانی بائیکاٹ کا اعلان

کٹوتی واپسی تک جاری رہے گا، اساتذہ میں پھیلی بے چینی ختم،مذاکرات کئے جائیں مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا،مصور سکندرودیگر

لاڑکانہ (بیورورپورٹ) دی یونیورسٹی آف لاڑکانہ کی ٹیچرز ایسوسی ایشن نے وائس چانسلر اور فنانس ڈائریکٹر کی جانب سے اساتذہ کی تنخواہوں سے مبینہ غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف کلاسز اور امتحانات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ اس سلسلے میں ٹیچرز ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں تنظیم کے صدر مصور سکندر، نائب صدر غلام نبی، جنرل سیکریٹری اختر حسین سمیت بڑی تعداد میں اساتذہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جب تک اساتذہ کی تنخواہوں سے کی گئی تمام مبینہ غیر قانونی کٹوتیاں واپس نہیں کی جاتیں، اس وقت تک تدریسی سرگرمیوں اور امتحانی ڈیوٹیوں کا مکمل بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا۔ مصور سکندر اور دیگر نے کہا کہ مہنگائی کی موجودہ صورتحال میں تنخواہوں سے کٹوتی ناانصافی ہے ، جس کے باعث اساتذہ میں شدید بے چینی اور تشویش پائی جاتی ہے ، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی پالیسی سے تعلیمی ماحول بھی متاثر ہورہا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کی تنخواہوں سے کی گئی تمام کٹوتیاں فوری طور پر واپس کی جائیں، اساتذہ میں پائی جانے والی بے چینی کے خاتمے کے لیے انتظامیہ فوری طور پر مذاکرات کرے اور آئندہ کسی بھی قسم کی کٹوتی سے قبل ٹیچرز ایسوسی ایشن کو اعتماد میں لیا جائے ۔ اساتذہ نے فپواسا سندھ اور فپواسا پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اساتذہ کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...