ذہنی صحت کا بحران ہنگامی صورتحال بن گیا، پی ایم اے
غربت، غذائی قلت اور ماہرین کی کمی سے مسائل شدت اختیار کررہے ہیںبجٹ میں اضافے اور مریضوں کو پالیسی سازی میں شامل کرنے کا مطالبہ
کراچی (این این آئی)پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے ) نے عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر ملک میں ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غربت، غذائی قلت اور معاشی عدم تحفظ کے باعث ذہنی مسائل میں اضافہ ہورہا ہے ، جبکہ ماہرین کی کمی، سماجی بدنامی اور ناکافی طبی سہولیات کی وجہ سے بڑی تعداد میں مریض علاج سے محروم ہیں۔پی ایم اے کے مطابق پاکستان میں 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد ذہنی اور نفسیاتی امراض کا شکار ہیں۔ایسوسی ایشن نے کہا کہ ملک میں غربت، بے روزگاری، روزگار کا عدم تحفظ اور معاشی غیر یقینی صورت حال لوگوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کررہی ہے ۔ پی ایم اے کے مطابق تقریباً 48 فیصد آبادی انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔
جبکہ بھوک اور غذائی قلت بھی جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل میں اضافے کا سبب بن رہی ہے ۔پی ایم اے نے واضح کیا کہ ذہنی صحت کو دیگر سماجی اور جسمانی مسائل سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ جب آبادی کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کررہا ہو تو غربت اور جسمانی بیماریوں کے اثرات ذہنی صحت کے بحران کو مزید سنگین بنادیتے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ذہنی صحت اب محض طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سطح پر فوری توجہ کا تقاضا کرنے والی صورت حال بن چکی ہے ۔پی ایم اے نے کہا کہ ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد کے ذاتی تجربات علاج اور پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ مقامی ضروریات اور ثقافتی اقدار سے ہم آہنگ طبی سہولیات کی تشکیل میں ان کی رائے لی جائے اور باہمی تعاون پر مبنی معاونتی نظام قائم کیے جائیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments