نرخوں کا تنازع برقرار، سندھ میں کرشنگ سیزن شروع نہ ہوسکا

نرخوں کا تنازع برقرار، سندھ میں کرشنگ سیزن شروع نہ ہوسکا

کسان تنظیموں نے گنے کے نرخ 650روپے فی من مقرر کرنیکا مطالبہ کردیالاگت کے پیش نظر محکمہ زراعت کی 569روپے من کی تجویز، کسان رہنما

پنگریو (نمائندہ دنیا)سندھ میں نیا کرشنگ سیزن شروع نہیں ہو سکا۔ نرخوں کے معاملے پر تنازع برقرار ہے ۔ کسان تنظیموں نے گنے کا نرخ 650 روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ صوبائی وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر کی زیر صدارت شوگر کین کنٹرول بورڈ کے اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کسان رہنما نبی بخش سٹھیو نے کہا کہ ایوانِ زراعت سندھ سمیت صوبے کی کسان تنظیموں نے کرشنگ سیزن 27-2026کیلئے گنے کا سرکاری نرخ 650 روپے من مقرر کرنے کی تجویز دی، جبکہ محکمہ زراعت سندھ نے فی من گنے پر لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سال کیلئے 569 روپے فی من نرخ کی تجویز دی۔

نبی بخش سٹھیو کے مطابق اجلاس میں کسان تنظیموں کے نمائندوں نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کے بعد 650 روپے فی من سے کم نرخ آبادگار کیلیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ اجلاس میں سیکریٹری زراعت محمد زمان ناریجو سمیت متعلقہ افسران شریک ہوئے ۔ نبی بخش سٹھیو نے کہا کہ کسان تنظیموں کی تجویز کے مطابق گنے کی فی ایکڑ کاشت پر مجموعی لاگت 3 لاکھ 77 ہزار 15 روپے ہے ، فی ایکڑ متوقع اوسط پیداوار 750 من ہے، اس حساب سے فی من لاگت 503 روپے، اور25 فیصد منافع شامل کیا جائے تو قیمت 628 روپے من بنتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جب محض لاگت ہی 628 روپے فی من ہے تو محکمہ زراعت کی 569 روپے فی من تجویز آبادگار کے اخراجات بھی پورے نہیں کریگی، اسی لیے کسان تنظیموں نے 650 روپے کو منصفانہ نرخ قرار دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...