ریلوے سٹیشن کے گرد ترقیاتی کام سست روی کا شکا ر
9ارب کا خصوصی پیکیج رکھاگیا، پنجاب حکومت اپنی ذمہ داری کے تحت 2 ارب پچیس کروڑ جاری بھی کر چکی ، اس کے باوجود کئی سائٹس پر عملی سرگرمی شروع نہیں ہو سکیبادامی باغ، شادباغ اور مصری شاہ میں سڑکوں کی بحالی جیسے اقدامات بیک وقت شروع ہونا تھے ، ان علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی رفتار انتہائی محدود دکھائی دے رہی
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )شہر کے تاریخی اور مصروف ترین علاقے لاہور ریلوے سٹیشن کے گرد و نواح میں بہتری کیلئے نو ارب روپے کا خصوصی ترقیاتی پیکیج ترتیب دیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت تقریباً تین کلومیٹر علاقے کی اپ گریڈیشن، انفراسٹرکچر کی بہتری اور ٹریفک نظام کی بحالی کے اقدامات شامل تھے ۔ پنجاب حکومت اپنی ذمہ داری کے تحت دو ارب پچیس کروڑ روپے جاری بھی کر چکی ہے ، تاہم اس کے باوجود کئی سائٹس پر عملی سرگرمی شروع نہیں ہو سکی۔منصوبے میں ریلوے سٹیشن کے اطراف کے علاوہ داتا دربار، بھاٹی گیٹ، آؤٹ فال روڈ اور اندرون شمالی لاہور کے علاقے شامل کیے گئے تھے ۔ خاص طور پر بادامی باغ، شادباغ اور مصری شاہ میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور سڑکوں کی بحالی جیسے اقدامات بیک وقت شروع ہونا تھے ، مگر ان علاقوں میں کاموں کی رفتار انتہائی محدود دکھائی دے رہی ہے ۔ابتدائی مرحلے میں ٹینڈرز جاری کیے گئے ، مگر اس کے بعد متعدد منصوبوں پر خاموشی چھا گئی۔ ٹیپا اور ایل ڈی اے کی جانب سے فیلڈ ورک شروع نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ فنڈز کی دستیابی کے باوجود عملدرآمد میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔