واسا تنصیبات کو چلانے کیلئے ہرسال اربوں کی بجلی صرف

واسا تنصیبات کو چلانے کیلئے ہرسال اربوں کی بجلی صرف

پمپنگ اور دیگر آپریشنز کیلئے سالانہ 24 لاکھ لیٹر پٹرول ، ڈیزل بھی استعمال

لاہور (سٹاف رپورٹر سے )شہر کے مختلف علاقوں میں قائم مجموعی طور پر ایک سو اٹھائیس ڈسپوزل اور لفٹ اسٹیشن پمپنگ کے ذریعے گندا پانی دریا کی جانب منتقل کرتے ہیں۔ان تنصیبات کو چلانے کے لیے واسا کو ہر سال اربوں روپے کے بجلی بل ادا کرنا پڑتے ہیں جبکہ پمپنگ اور دیگر آپریشنز کے لیے سالانہ تقریباً چوبیس لاکھ لیٹر پٹرول اور ڈیزل بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ توانائی کی یہی بڑھتی ہوئی لاگت ادارے کے مالی وسائل پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے ۔توانائی بحران کے پیش نظر واسا کی تنصیبات کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا تاکہ بجلی اور ایندھن کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے ۔ تاہم عملی پیش رفت انتہائی محدود رہی ہے اور ایک سو اٹھائیس ڈسپوزل اور لفٹ سٹیشنز میں سے صرف نو ڈسپوزل سٹیشنز پر سولر سسٹم لگانے کا عمل شروع کیا جا سکا ہے ۔شہر کے باقی ایک سو انیس لفٹ اور ڈسپوزل سٹیشن بدستور بجلی کی روایتی فراہمی پر چل رہے ہیں جس کے باعث ادارے کا انحصار مکمل طور پر لیسکو سپلائی پر برقرار ہے ۔ ذرائع کے مطابق واسا کے ڈسپوزل سٹیشنز کو مکمل طور پر سولر انرجی پر منتقل کرنے کے لیے تقریباً تین ہزار سات سو چھتیس کلو واٹ سولر پینلز نصب کرنے کی ضرورت ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں