مارکیٹ میں درسی کتب کی شدید قلت:طلبہ،والدین پریشان
نئے تعلیمی سال کا آغاز ،محدود سپلائی اور تاخیر سے فراہمی نے صورتحال مزید گھمبیر بنا دی:کتب فروش ،منافع خور متحرک ،شہری بازاروں کے چکرلگانے پر مجبور غیر معیاری و غیر منظور شدہ کتب مہنگے داموں فروخت،والدین کو مالی نقصان کا سامنا ، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تعلیمی نظام مزید متاثر ہو سکتا ہے :تعلیمی ماہرین
لاہور(سجاد کاظمی سے )مارکیٹ میں درسی کتب کی شدید قلت، طلبہ اور والدین پریشان۔ تفصیلات کے مطابق یکم اپریل سے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے باوجود اوپن مارکیٹ میں درسی کتب کی شدید قلت سامنے آ گئی ہے ، جس کے باعث پہلی سے دسویں جماعت تک کے طلبہ اور انکے والدین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ سنگل درسی کتب نایاب ہو چکی ہیں اور شہری کتابوں کے حصول کے لیے مختلف بازاروں کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔والدین کا کہنا ہے کہ تعلیمی سال شروع ہو چکا ہے مگر بچوں کے پاس بنیادی کتب موجود نہیں، جس سے تعلیمی عمل متاثر ہو رہا ہے ۔ کتب فروشوں کے مطابق محدود سپلائی اور تاخیر سے فراہمی نے صورتحال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے ۔ذرائع کے مطابق درسی کتب کی قلت کی بڑی وجہ سنگل کتب کی ایلوکیشن میں تاخیر ہے ، جبکہ مبینہ طور پر اس تاخیر سے مخصوص پبلشرز کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے ۔
صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منافع خور عناصر بھی متحرک ہو گئے ہیں اور غیر معیاری و غیر منظور شدہ کتب مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں، جس سے والدین کو مالی نقصان کا سامنا ہے ۔تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی سال شروع ہونے کے بعد کتب کی ایلوکیشن ہونا ایک سوالیہ نشان ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تعلیمی نظام مزید متاثر ہو سکتا ہے ۔ دوسری جانب حکام کو ایم ایم سی کی مد میں مالی نقصان اور پبلشرز کی جانب سے کمپلسیشن کلیمز کی صورت میں کروڑوں روپے کی ادائیگی کا خدشہ بھی لاحق ہے ۔ والدین، اساتذہ اور شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر درسی کتب کی دستیابی یقینی بنائی جائے ۔