متعدد میگا انفراسٹرکچر منصوبے فائلوں ، اجلاس تک محدود
سفر کے دورانیے میں بہتری اور شہریوں کو سفری سہولت فراہم کرنا تھا
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )لاہور میں بڑھتی ٹریفک، گھنٹوں کے سفر اور شہریوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے ماضی میں متعدد میگا انفراسٹرکچر منصوبے تیار کیے گئے ، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ منصوبے عملی میدان میں آنے کے بجائے فائلوں اور اجلاسوں تک محدود ہو کر رہ گئے ۔ایل ڈی اے کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں کو سگنل فری بنانے کے لیے دو بڑے کوریڈورز تجویز کیے گئے تھے ، جن کا مقصد ٹریفک کے دباؤ میں کمی، سفر کے دورانیے میں بہتری اور شہریوں کو تیز رفتار سفری سہولت فراہم کرنا تھا۔کھاڑک سٹاپ سے فیروزپور روڈ تک سگنل فری کوریڈور منصوبہ شہر کے جنوبی اور وسطی علاقوں کے لیے اہم تصور کیا جا رہا تھا۔ منصوبے کے تحت متعدد انڈر پاسز، فلائی اوورز اور ٹریفک انجینئرنگ اقدامات شامل کیے گئے تھے تاکہ روزانہ لاکھوں گاڑیوں کی روانی کو بہتر بنایا جا سکے ، تاہم یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا۔سکیم موڑ سے گلبرگ تک مجوزہ سگنل فری کوریڈور کو لاہور کے مصروف ترین تجارتی اور رہائشی علاقوں کے لیے ایک بڑی سہولت قرار دیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے ڈیزائن اور ابتدائی تکنیکی کام پر پیش رفت ضرور ہوئی، لیکن بعد ازاں منصوبہ سرد خانے کی نذر ہو گیا اور ڈیزائن مکمل ہونے سے پہلے ہی معاملہ غیر فعال ہو کر رہ گیا۔جیل روڈ سے ملتان روڈ تک سگنل فری کوریڈور بھی لاہور کی ٹریفک مینجمنٹ کا ایک اہم حصہ سمجھا جا رہا تھا۔ اربوں روپے لاگت کے اس منصوبے کے لیے ابتدائی تخمینے اور تکنیکی تجاویز تیار کی گئیں، مگر عملی تعمیراتی کام شروع نہ ہو سکا۔