جوہر ٹاؤن :سکھا باغ اراضی تنازع پھر شدت اختیار کرگیا
ایل ڈی اے نے نئی کارروائی شروع کرنے کے لیے ورکنگ پیپر تیار کر لیا
لاہور (شیخ زین العابدین)جوہر ٹاؤن میں واقع سکھا باغ اراضی تنازع نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے ، جہاں ایل ڈی اے چھیالیس برس گزرنے کے باوجود مکمل اراضی سکیم میں شامل نہ کر سکا۔ سپریم کورٹ کی حالیہ ہدایات کے بعد ایل ڈی اے نے متنازع اراضی سے متعلق نئی کارروائی شروع کرنے کے لیے ورکنگ پیپر تیار کر لیا ہے ۔یہ معاملہ چک موہل اور چک مزنگ موضعات کے متعدد خسرہ نمبرز پر مشتمل تقریباً ایک سو چالیس کنال اراضی سے متعلق ہے ، جسے ایم اے جوہر ٹاؤن سکیم کا حصہ بنانے کے لیے 1980 میں ایکوزیشن عمل شروع کیا گیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق اس زمین پر رہائشی پلاٹس، سڑکیں اور پارکس پلان کیے گئے تھے جبکہ دس نومبر 1979 کو پنجاب ایکوزیشن آف لینڈ ہاؤسنگ ایکٹ 1969 کے تحت باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔2021میں اراضی مالکان نے دوبارہ لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جس پر عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے کو درخواست گزاروں کا مؤقف سننے کی ہدایت کی۔ اب سپریم کورٹ نے ایل ڈی اے کو چار ہفتوں میں تازہ ایکوزیشن کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کر دی ہے ، جس کے بعد ڈائریکٹر ہاؤسنگ سیون، ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ فور، ڈائریکٹر لینڈ ایکوزیشن اور ڈائریکٹر لا کی جانب سے مشترکہ ورکنگ پیپر تیار کیا گیا ہے ۔