کالجز میں مستقل اساتذہ کی خالی اسامیاں 7 ہزار سے متجاوز
حالیہ مہینوں میں مزید 7سو سیٹیں خالی ہوئیں،تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونیکا خدشہ
لاہور(خبر نگار)صوبہ بھر کے سرکاری کالجز میں مستقل اساتذہ کی کمی مزید سنگین صورت اختیار کر گئی ہے ، جہاں خالی اسامیوں کی تعداد 7 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے ، جبکہ حالیہ مہینوں میں مزید 700 مستقل پروفیسرز کی اسامیاں خالی ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ذرائع کے مطابق ریٹائرمنٹ، ایل پی آر، ایکس پاکستان لیو اور دیگر انتظامی وجوہات کے باعث تدریسی عملے کی کمی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، جس کے باعث تعلیمی سرگرمیوں اور تدریسی معیار پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔محکمہ ہائر ایجوکیشن کے ریکارڈ کے مطابق صوبہ بھر کے کالجز کیلئے 22 ہزار تدریسی اسامیاں منظور شدہ ہیں، تاہم ان میں سے 7 ہزار سے زائد اسامیاں طویل عرصے سے خالی پڑی ہیں۔مستقل اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے محکمہ ہائر ایجوکیشن ہر سال عارضی بنیادوں پر اساتذہ کی بھرتی کرتا ہے ۔ محکمہ حکام کے مطابق مستقل اساتذہ کی شارٹیج کے باعث تدریسی نظام برقرار رکھنے کے لیے ہر سال تقریباً 7 ہزار اساتذہ کو عارضی بنیادوں پر تعینات کیا جاتا ہے ۔تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ مستقل بھرتیوں میں تاخیر کے باعث کالجز میں تدریسی بوجھ بڑھ رہا ہے ، جس سے طلبہ کے تعلیمی معیار اور انتظامی امور متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔