جعلی بیوٹی کریموں کی بھرمار، نوجوان جلدی امراض میں مبتلا
غیر معیاری کاسمیٹکس کے استعمال سے کیل مہاسے ، داغ دھبوں کا خدشہ
لاہور (این این آئی)رائے ونڈ میں جعلی بیوٹی کریموں کی بھرما ر ،خواتین جلدی امراض میں مبتلا ہونے لگیں ،غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری کریمیں تیار کرنے والے کروڑپتی بن گئے ۔ تفصیلات کے مطابق رنگ گورا کرنے اور دوسروں سے زیادہ حسین نظر آنے والی کاسمیٹکس مصنوعات کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے ،اس دوڑ میں لڑکے بھی پیچھے نہیں رہے ۔سروے میں انکشاف ہوا کہ رائے ونڈ میں 100سے زائد مختلف برانڈ کی کریمیں بازار میں فروخت ہورہی ہیں جس سے لڑکوں کے چہرے خوبصورت نظر آنے کی بجائے کیل مہاسوں اورداغ دھبوں سے بھرے پڑے ہیں ۔ان کریموں کے بارے میں معروف ڈاکٹر عادل ممتازکا کہنا ہے کہ بازار میں رنگ گورا کرنے والی کریموں سے لڑکوں اور لڑکیوں کے چہرے داغ دار ہورہے ہیں اور رائے ونڈ میں جلد کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ رنگ گورا کرنے والی کریموں میں استعمال ہونے والا کیمیکل کسی صورت میں فائدہ مند نہیں ،دو چار دن تک رنگ گورا رہنے کے بعد ان کریموں کے منفی اثرات ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ غیر معیاری کریموں کے استعمال سے جلد کا کینسر بھی ہوسکتا ہے ۔