بین المسالک ہم آہنگی اور انتہا پسندی کے تدارک پر کانفرنس
پاکستان کی بقا کیلئے لازم ہے کہ فرقوں میں بٹنے سے بچا جائے :مقررین
لاہور (اے پی پی) نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی کے زیر اہتمام \"بین المسالک ہم آہنگی اور انتہا پسندی کا تدارک\" کے عنوان پر ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا- کانفرنس میں خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبدالخبیر آزاد، سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل مولانا زبیر احمد ظہیر، سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر خالد محمود،رکن اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر محمد شفیق خان پسروری، سیکرٹری جنرل ریسرچ سنٹر جامعہ اروا الوفی ڈاکٹر ذوالفقار حیدر ،ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف نبیلہ جاوید، قاضی عبدالغفار قادری،نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی اور ای ڈی آئی کے افسران سمیت دیگر نے شرکت کی - کانفرنس کا بنیادی مقصد معاشرے میں امن، رواداری اور بقائے باہمی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات تجویز کرنا تھا۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی کے ڈین ڈاکٹر نوید الٰہی نے استقبالیہ خطاب میں موضوع کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ \"موجودہ ملکی اور بین الاقوامی حالات میں بین المسالک ہم آہنگی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ، پاکستان کی بقا اور استحکام کیلئے لازم ہے کہ فرقوں اور گروہوں میں بٹنے سے بچا جائے - انہوں نے کہا کہ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے پلیٹ فارم مہیا کریں جہاں مکالمے کے ذریعے انتہا پسندانہ سوچ کا راستہ روکا جا سکے اور معاشرے میں امن و استحکام کی بنیاد رکھی جائے ۔اس موقع پر بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدالخبیر آزاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ\"پیغامِ پاکستان\" ایک تاریخی اور متفقہ دستاویز ہے ، جو ملک میں امن و امان کی ضامن ہے ، اب وقت آ گیا ہے کہ اس قومی بیانیہ کو عام کرنے کے لیے اسے باقاعدہ تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں فکری انتشار سے محفوظ رہ سکیں۔