رواں سال کوئی نئی ٹرانسپورٹ سکیم شروع نہ ہو سکی

رواں سال کوئی نئی ٹرانسپورٹ سکیم شروع نہ ہو سکی

محکمہ کسی منصوبے کا پی سی ون پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو ارسال نہ کر سکا، اربوں کے منصوبے کاغذوں میں ،مختلف اضلاع میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے جانے تھے مختص بجٹ بھی استعمال میں نہیں لایا جا سکا،منصوبوں کی منظوری اور فنڈز کے اجرا کا عمل آگے نہیں بڑھا، الیکٹرک بسوں اور ای ٹیکسی پروگرام کی تیاری :وزیر ٹرانسپورٹ

لاہور (شیخ زین العابدین)رواں مالی سال کے آغاز کو ایک ماہ گزر گیا، مگر پنجاب کے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ایک بھی نئی ترقیاتی سکیم عملی مرحلے میں داخل نہ ہو سکی۔ حکومت نے نو اضلاع میں جدید ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور الیکٹرک بسوں کے لیے بڑے منصوبوں کا اعلان کیا تھا، تاہم ابتدائی پیش رفت بھی سامنے نہ آ سکی۔ محکمہ ٹرانسپورٹ تاحال کسی منصوبے کا پی سی ون محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو ارسال نہیں کر سکا، جس کے باعث اربوں روپے کے منصوبے کاغذوں تک محدود ہیں۔ذرائع کے مطابق رواں مالی سال میں پنجاب بھر میں جدید سفری سہولیات کے فروغ اور الیکٹرک پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جس کے تحت مختلف اضلاع میں بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جانے تھے ،

مگر مالی سال کے پہلے ماہ کے دوران کسی ایک منصوبے پر بھی عملی کام کا آغاز نہیں ہو سکا۔محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب کی جانب سے اب تک کسی بھی ترقیاتی سکیم کا پی سی ون محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو جمع نہیں کرایا گیا، جس کے باعث منصوبوں کی باقاعدہ منظوری اور فنڈز کے اجرا کا عمل بھی آگے نہیں بڑھ سکا۔ترقیاتی پروگرام کے تحت فیصل آباد میں بس سٹاپس کی بحالی، جدید بس اڈوں کی تعمیر اور متعلقہ سہولیات کے لیے تین ارب بہتر کروڑ انیس لاکھ روپے کا منصوبہ تجویز کیا گیا تھا، تاہم اس منصوبے کے لیے مختص بجٹ بھی استعمال میں نہیں لایا جا سکا۔اسی طرح گجرات میں بس ٹرمینلز اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے پانچ ارب دس کروڑ روپے کے منصوبے کو بھی عملی منظوری نہ مل سکی۔

گوجرانوالہ میں سات ارب چوالیس کروڑ اڑتیس لاکھ روپے ، راولپنڈی میں چار ارب چونتیس کروڑ روپے اور سرگودھا میں پانچ ارب سینتیس کروڑ اکسٹھ لاکھ روپے کی لاگت سے الیکٹرک بسوں کے لیے ضروری انفراسٹرکچر بچھانے کی منصوبہ بندی بھی تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکی۔حکومت نے ان منصوبوں کے ابتدائی مراحل کے لیے رواں مالی سال کے ترقیاتی بجٹ سے نوے کروڑ روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن پہلے ماہ کے دوران یہ فنڈز بھی جاری نہ کیے جا سکے ۔دوسری جانب وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کا کہنا ہے کہ الیکٹرک بسوں اور ای ٹیکسی پروگرام کے لیے انفراسٹرکچر کی تیاری کا جامع منصوبہ موجود ہے اور اس پر مرحلہ وار پیش رفت کی جا رہی ہے ۔پنجاب میں جدید اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار آئندہ مہینوں میں کس حد تک تیز ہوتی ہے ، اس پر اب متعلقہ اداروں کی عملی کارکردگی نظر رکھے گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...