ریلوے نظام مفلوج،مسافروں کی جانیں دائو پر

ریلوے نظام مفلوج،مسافروں کی جانیں دائو پر

فنڈز کی کمی ، نااہلی یا ریلوے انتظامیہ کی بے حسی،87فیصد زائدالمیعاد ٹریک اورناکارہ انجن،ناقص سگنل اور کچے پھاٹک، ٹرین کا سفر شہریوں کیلئے خوف کی علامت بن گیا ملتان تا کراچی سیکشن کی صورتحال بدترین،دھند نے پول کھول دیا،ٹرینیں تاخیر کا شکار،حادثات کے خدشات بڑھ گئے ، مختلف تجاویز اور منصوبے زیر غور ہیں ،ریلوے انتظامیہ

 ملتان (شاہدلودھی )دھند، خستہ حال ٹریک، زائد المیاد انجن اور بوگیاں،ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکا ر ہونے لگیں ۔تفصیل کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں شدید دھند کے باعث پاکستان ریلوے کا نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے ، جس کے نتیجے میں متعدد مسافر ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار ہیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے حدِ نگاہ کم ہونے کے باعث ٹرینوں کی رفتار حفاظتی طور پر کم رکھی جا رہی ہے ، جس سے طویل سفر مزید دشوار ہو گیا ہے ۔ریلوے حکام کے مطابق حفاظتی تقاضوں کے تحت بعض روٹس پر آپریشن عارضی طور پر محدود بھی کیا جاتا ہے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے ۔

پاکستان ریلوے کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 11ہزار 881کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک موجود ہے جس میں سے ساڑھے 800سے زائد ریلوے ٹریک صرف کراچی، سکھر اور حیدرآباد ڈویژن میں ہے ، ٹریک کی خستہ حالی کی وجہ سے یہاں پر گاڑیوں کی اوسط رفتار بھی 55سے 60کے درمیان رہتی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف رفتار متاثر ہو رہی ہے بلکہ دھند جیسے موسمی حالات میں خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں

۔پاکستان ریلوے کے 87فیصد ٹریک زائد المیعاد ہو چکے ہیں ایم ایل2 ریلوے ٹریک کا 88 فیصد، ایم ایل-3 ٹریک کا 991 کلومیٹر میں سے 92 فیصد، اور 3840کلومیٹر طویل برانچ لائنوں کا 98 فیصد حصہ زائد المیعاد ہے ۔ملتان تا کراچی بذریعہ سکھر سیکشن کو پاکستان ریلوے کا سب سے خطرناک حصہ قرار دیا جاتا ہے مجموعی طور پر سو سے زائد حادثات ہرسال ریلوے ٹریک پر ہوتے ہیں ، پاکستان ریلوے کراسنگز پر ہونے والے حادثات کو شمار نہیں کرتی ورنہ ان کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ جائے ۔پاکستان ریلوے کے پاس موجود 1634 مسافر کوچز میں سے 1183کی معیاد پوری ہو چکی ہے جبکہ 439ڈیزل الیکٹرک لوکوموٹو میں سے 233انجن بھی زائد المیعاد ہو چکے ہیں۔ ریلوے نیٹ ورک میں بڑی تعداد کچے اور بغیرگارڈ پھاٹکوں پر مشتمل ہے ، آئے روز حادثات کا خدشہ رہتا ہے ۔ریلوے ذرائع کے مطابق کچے پھاٹکوں کی مرمت، بہتری اور انہیں گارڈ شدہ بنانے کے لیے درکار فنڈز تاحال مکمل جاری نہیں ہو سکے ،صوبائی حکومتوں اور متعلقہ سڑکوں کے محکموں کا تعاون ضروری ہے ، فنڈز کی کمی کے باعث متعدد منصوبے تعطل کا شکار ہیں ۔ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹریک کی بحالی، جدید سگنل سسٹم اور پھاٹکوں کو محفوظ بنانے کیلئے مختلف تجاویز اور منصوبے زیر غور ہیں، جن پر فنڈز ملنے کی صورت میں مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ مسافروں کو محفوظ اور بروقت سفری سہولت فراہم کی جا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں