ڈاکٹرز کی دوا ساز کمپنیوں سے مراعات پر شہریوں میں تشویش

ڈاکٹرز کی دوا ساز کمپنیوں سے مراعات پر شہریوں میں تشویش

گگو منڈی (نامہ نگار)بعض ڈاکٹرز کی جانب سے دوا ساز کمپنیوں سے کمیشن، قیمتی تحائف اور مبینہ طور پر عمرہ ٹکٹ حاصل کرنے کے الزامات پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے ۔۔۔۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کچھ ڈاکٹرز مریضوں کی اصل بیماری اور ضرورت کے مطابق ادویات تجویز کرنے کے بجائے مخصوص کمپنیوں کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے باعث مریضوں کو مہنگی اور بعض اوقات غیر ضروری ادویات خریدنا پڑتی ہیں۔ شہریوں کے مطابق اس رجحان سے غریب طبقہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہو رہا ہے ۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب و دیگر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی خدمت جیسے مقدس پیشے سے وابستہ چند عناصر اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کرتے ہوئے مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں، جو طبی اخلاقیات اور عوامی اعتماد کے منافی ہے ۔ ان کے مطابق بعض ڈاکٹرز دوا ساز کمپنیوں سے مراعات لینے کے بعد انہی کی ادویات تجویز کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی ڈاکٹر کی جانب سے ناجائز مراعات کے بدلے عمرہ ٹکٹ یا دیگر فوائد حاصل کیے جاتے ہیں تو اس عمل سے اخلاقی پہلو بھی متاثر ہوتا ہے ، کیونکہ اسلام دیانتداری اور امانت داری کی تعلیم دیتا ہے ۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری و نجی ہسپتالوں میں دوا ساز کمپنیوں سے کسی بھی قسم کے مالی فائدے یا تحائف لینے پر سخت پابندی عائد کی جائے ۔ ساتھ ہی ادویات تجویز کرنے کے عمل کی شفاف نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مریضوں کو غیر ضروری اور مہنگی ادویات سے بچایا جا سکے ۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ صحت کے شعبے میں شفافیت قائم ہو اور عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں