دریائے چناب میں سیلاب،کٹاؤ کا عمل تیز
مختلف مواضعات میں سینکڑوں ایکڑ رقبہ پر کھڑی کپاس ،اروی اور چارجات کی فصلوں کو شدید نقصان، آم کے باغات بھی متاثر، موبائل کلینکس کی گاڑیاں متاثرہ بستیوں کو روانہ فلڈ وارننگ جاری،حفاظتی بندوں کو پختہ کررہے ، دو لاکھ کیوسک سے پانی تجاوز کرنے پر بستیوں سے انخلا کو یقینی بنائیں گے ،حکمت عملی تیار ،ڈی سی فیصل کریم ، دنیا سے گفتگو
ملتان (نعمان خان بابر سے ) ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فیصل سلیم نے روزنامہ دنیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دریائے چناب میں پونے دو لاکھ کیوسک پانی سے درمیانے درجے کا سیلاب ہے ، انیس مختلف مواضعات میں سیلاب سے کٹاؤ کا عمل تیز ہو چکا ہے ۔ سینکڑوں ایکڑ رقبے پر کھڑی کپاس ،اروی اور چارجات کی فصل کو شدید نقصان ہوا ہے ، آم کے باغات بھی متاثر ہو رہے ہیں ، فلڈ وارننگ جاری کر دی تاہم دو لاکھ کیوسک سے پانی تجاوز کرنے پر متاثرہ بستیوں سے انخلا کو یقینی بنائیں گے جس کے لیے پولیس اور پیرا فورس کی مدد سے حکمت عملی تیار کر لی۔ بندوں کو پختہ کرنے کا کام بھی تیز کر دیا جبکہ فلڈ ریلیف کے لیے مریم نواز موبائل کلینکس کی گاڑیاں متاثرہ بستیوں میں بھجوا دی ہیں جس سے متاثرہ افراد کو جلدی امراض جیسی بیماریوں سے بچانے کے حوالے سے کافی حد تک مدد ملے گی۔ درمیانے درجے کے سیلاب سے دریا کا کٹاو مختلف بستیوں تک پھیل گیا ہے جس سے ملتان کے نشیبی علاقوں کے انیس مواضعات میں سینکڑوں ایکڑ رقبے پر کھڑی کپاس ، اروی اور چارہ جات کی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ سیلابی پانی سے انیس مواضعات کے درجنوں مکانات گر نے سے متاثرہ بستیوں کے مکینوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں ۔اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فیصل سلیم نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ دریائے چناب میں سیلاب کی صورتحال کنٹرول میں ہے لیکن اس کے باوجود پولیس اور پیرا فورس کو آن بورڈ لے لیا ہے اور متاثرین کے انخلا کے حوالے سے حکمت عملی تیار کر لی ہے تاکہ متاثرہ بستیوں میں جانی اور مالی نقصان سے بچا جا سکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments