چیف لینڈ کمشنر کا 200ایکڑ اراضی خاندانوں کو واپس کرنیکاحکم

چیف لینڈ کمشنر کا 200ایکڑ اراضی خاندانوں کو واپس کرنیکاحکم

اے ڈی سی ریونیو کا فیصلہ منسوخ، موضع غازی خنانہ میں متعدد متاثرہ خاندانوں کو ریلیف

ملتان (کورٹ رپورٹر)چیف لینڈ کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے 200 ایکڑ سے زائد اراضی متاثرہ خاندانوں کو واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کا فیصلہ منسوخ کردیا۔ پٹیشنرز کے وکیل میاں محمد فیاض منصب سکھیرا نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اے ڈی سی ریونیو کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی اور اختیارات سے تجاوز تھا، کیونکہ معاملہ پہلے ہی فیڈرل لینڈ کمشنر کے سامنے طے ہوچکا ہے ۔وکیل نے کہا کہ لینڈ ریفارمز ایکٹ 1959ء اور 1972ء کے تحت کئے گئے فیصلوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور انہیں اس طرح چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ ضلع وہاڑی کے موضع غازی خنانہ (لڈن)میں زرعی اصلاحات کے تحت تقسیم ہونے والی 691 ایکڑ اراضی کے معاملے میں ایڈیشنل کمشنر نے 2025ء کے فیصلے کے تحت مذکورہ اراضی بحق لینڈ کمشنر ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔اس فیصلے کو محمد علیم وغیرہ نے چیف لینڈ کمشنر لاہور کے روبرو نظرثانی درخواست کے ذریعے چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزاروں کے مطابق میاں ریاض احمد دولتانہ کی لینڈ ریفارمز ایکٹ 1959ء کے تحت ضبط شدہ اراضی 1960ء میں نیلام ہوئی اور مختلف افراد کو قانونی طریقہ کار کے تحت الاٹ کردی گئی تھی۔

چیف لینڈ کمشنر پنجاب نے دلائل سننے کے بعد ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے 200 ایکڑ سے زائد اراضی متاثرہ خاندانوں کو واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ فیصلے سے متعدد خاندانوں کو ریلیف ملا ہے ، جنہوں نے اراضی کے تحفظ کے لئے طویل قانونی جدوجہد کی۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...