سوال افسروں کو کام کا معیار بہتر، عملی اقدامات کا حکم
سرکاری اختیار کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی فائدے کیلئے استعمال کیا جائے ،گریڈ ،نمبروں اور عہدے کی دوڑ کے بجائے کام کے معیار اور عوامی اثرات کو اہمیت دیں، کمشنراگر چند ہزار بااختیار سرکاری افسر اپنی ذمہ داری کو محض ملازمت کے بجائے قومی خدمت سمجھ کر ادا کریں تو کروڑوں زندگیوں میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے ،خطاب
ملتان (وقائع نگار خصوصی) کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں نے پی ایم ایس کے زیر تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سول افسر کی اصل پہچان اس کا عہدہ، گریڈ یا اختیار نہیں بلکہ اس کے کام اور معاشرے پر پڑنے والا مثبت اثر ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکاری افسروں کو کام کا معیار بہتر کرنے اور عوامی مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمت محض فائلوں کی تکمیل اور دفتری معمولات نبھانے کا نام نہیں، بلکہ کروڑوں شہریوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کی ذمہ داری ہے ۔ افسران کو اپنی ذمہ داری، اختیار اور عوامی خدمت کے مقصد میں مکمل وضاحت رکھنی چاہیے اور کمفرٹ زون سے باہر نکل کر نئے اقدامات کرنا چاہئیں،سرکاری افسر کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ کام صرف وہی ہے جو اس کی جاب ڈسکرپشن میں درج ہے ۔
حقیقی پبلک سروس یہ ہے کہ افسر مسائل کی نشاندہی کرے ، ان کا قابلِ عمل حل تلاش کرے اور اپنی صلاحیتوں اور دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے نئے اقدامات شروع کرے ۔انہوں نے اپنے دورِ ملازمت کے مختلف اقدامات کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ جلالپور پیروالا میں سرکاری سکول کی بحالی، زیرالتوا پٹہ ملکیت کے معاملات کے حل، خصوصی تعلیم کے اداروں میں بچوں کی سماعت کی اسکریننگ و علاج، مستحق افراد کے لیے مفت کھانے کا انتظام، ادیبوں اور شعراء کی پذیرائی، شہری خوبصورتی، تجاوزات سے واگزار اراضی پر پارکس اور لائبریری سے منسلک کیفے جیسے منصوبے اسی سوچ کا نتیجہ ہیں۔کمشنر نے کہا کہ کلیرٹی، کمٹمنٹ اور کمفرٹ زون سے باہر نکلنے کی صلاحیت ایک افسر کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے ۔
اگر چند ہزار بااختیار سرکاری افسران اپنی ذمہ داری کو محض ملازمت کے بجائے قومی خدمت سمجھ کر ادا کریں تو کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔انہوں نے پی ایم ایس افسران پر زور دیا کہ وہ نمبروں، گریڈ اور عہدے کی دوڑ کے بجائے اپنے کام کے معیار اور عوامی اثرات کو اہمیت دیں۔ ان کے بقول افسر کو ہر روز یہ سوچنا چاہیے کہ آج اس نے کیا نیا سیکھا اور عوام کے لیے کیا نیا کیا۔عامر کریم خاں نے کہا کہ دیانت داری کا تقاضا یہ بھی ہے کہ سرکاری اختیار کو ذاتی مفاد کے بجائے عوامی فائدے کے لیے استعمال کیا جائے ۔ اگر کسی کام کے لیے سرکاری وسائل دستیاب نہ ہوں تو قانون اور شفافیت کے دائرے میں رہتے ہوئے معاشرے اور نجی شعبے کو ساتھ ملا کر مسائل کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کی بہتری صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ علماء، اساتذہ، کاروباری برادری، والدین، طلبہ اور سول سوسائٹی سمیت ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسی سوچ کے تحت سماجی مسائل، صفائی، ملاوٹ، تجاوزات اور دیگر عوامی معاملات کے حوالے سے علماء کرام کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔کمشنر نے نوجوان افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ \\\"آپ کو حکومت صرف فائلیں چلانے کے لیے نہیں لاتی؛ آپ کو فرق پیدا کرنے کے لیے موقع دیا جاتا ہے ۔\\\" انہوں نے کہا کہ عہدہ عارضی ہے ، مگر ایک افسر کے اچھے کام کا اثر طویل عرصے تک معاشرے میں باقی رہ سکتا ہے ۔ اس موقع پر متعلقہ افسران بھی موجود تھے ۔ تقریب کے آخر میں افسران نے کمشنر عامر کریم خاں کو سونئیر بھی پیش کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments