18 کروڑ خرچ، دوکوٹہ گرلز کالج تاحال فعال نہ ہوسکا

18 کروڑ خرچ، دوکوٹہ گرلز کالج تاحال فعال نہ ہوسکا

چار سال سے منصوبہ زیر التوا،عمارت کے شیشے ٹوٹنے لگے ، ٹرانسفارمر چوری

میلسی (نمائندہ دنیا) میلسی کے نواحی علاقے چک نمبر 145 ڈبلیو بی میں طالبات کو اعلیٰ تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج فار گرلز دوکوٹہ تقریباً چار سال گزرنے کے باوجود فعال نہ ہوسکا۔ کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود عمارت تاحال تعلیمی سرگرمیوں کے لیے مکمل طور پر دستیاب نہیں، جس کے باعث علاقے کی طالبات اور والدین مشکلات کا شکار ہیں۔دستیاب سرکاری ترقیاتی ریکارڈ کے مطابق منصوبہ 27 جولائی 2021 کو 18 کروڑ 90 لاکھ 80 ہزار روپے کی ابتدائی لاگت سے منظور ہوا، جبکہ 25 ستمبر 2022 کو منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ جون 2025 تک منصوبے پر 18 کروڑ 15 لاکھ 49 ہزار روپے خرچ ہوچکے تھے ، جو منظور شدہ لاگت کا تقریباً 96 فیصد بنتا ہے ۔ اس کے باوجود کالج فعال نہ ہونے پر منصوبے کی تکمیل اور نگرانی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔طویل عرصے سے زیر تعمیر عمارت مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث خستگی کا شکار ہے اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹنے لگے ہیں۔ بجلی کی فراہمی کے لیے نصب ٹرانسفارمر بھی چوری ہوچکا ہے ۔مقامی شہریوں کے مطابق دوکوٹہ اور ملحقہ علاقوں کی طالبات کے لیے میٹرک کے بعد سرکاری اعلیٰ تعلیم کے مواقع محدود ہیں۔ میلسی اور ٹبہ سلطانپور کے سرکاری کالج تقریباً 20،20 کلومیٹر دور ہیں۔ اہل علاقہ نے حکومت سے کالج کی فوری تکمیل، بجلی کی بحالی، عمارت کی حفاظت اور اسے باقاعدہ فعال کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...