ملتان:سہولیات کی کمی،نشتر ٹو،ہسپتال غیرفعال

 ملتان:سہولیات کی کمی،نشتر ٹو،ہسپتال غیرفعال

ملتان ( لیڈی رپورٹر) نشتر ہسپتال ٹو کو نشتر ہسپتال ون پر مریضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ کم کرنے کے لئے تین مراحل میں مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا،

 تاہم منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے اور 500 بستروں پر مشتمل ہسپتال کا افتتاح 2024 میں کئے جانے کے باوجود تاحال ہسپتال کو مکمل طور پر فعال کرنے میں متعدد مشکلات درپیش ہیں نشتر ہسپتال ٹو کا سنگ بنیاد 2019 میں رکھا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں 500، دوسرے مرحلے میں مزید 500 بستروں کی فراہمی جبکہ تیسرے مرحلے میں میڈیکل یونیورسٹی اور نرسنگ کالج کے قیام کا منصوبہ شامل ہے ۔ تاہم موجودہ صورتحال میں ہسپتال کا پہلا مرحلہ ہی مکمل طور پر فعال نہ ہونے کے باعث شہریوں کو مطلوبہ طبی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق نشتر ہسپتال ٹو کی او پی ڈی میں روزانہ تقریباً 1500 سے 1700 مریض جبکہ ایمرجنسی میں 200 سے 300 مریض علاج کے لئے آتے ہیں، جس کے باوجود ہسپتال میں طبی و انتظامی عملے کی شدید کمی ہے ۔

عملے کی عدم دستیابی کے باعث ہسپتال کا آئی سی یو بھی تاحال مکمل طور پر فعال نہیں ہوسکا۔اس کے علاوہ ہسپتال کی مختلف عمارتوں کے سیفٹی سرٹیفکیٹس سے متعلق بھی مسائل موجود ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے ، جس سے ہسپتال کی مکمل فعالیت اور مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ نشتر ہسپتال ٹو کا بنیادی مقصد نشتر ہسپتال ون پر مریضوں کا دباؤ کم کرنا تھا، لیکن ضروری سہولیات، طبی آلات اور عملے کی کمی کے باعث یہ مقصد تاحال پوری طرح حاصل نہیں ہوسکا۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ نشتر ہسپتال ٹو میں ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر ضروری عملے کی فوری تعیناتی، آئی سی یو سمیت تمام شعبوں کو مکمل فعال کرنے اور عمارتوں کے حفاظتی تقاضے پورے کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں تاکہ ملتان اور جنوبی پنجاب کے شہریوں کو بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...