گرلز ہاسٹل میں طالبات سے لاکھوں روپے بٹورنے کا الزام

گرلز ہاسٹل میں طالبات سے لاکھوں روپے بٹورنے کا الزام

گرلز ہاسٹل میں طالبات سے لاکھوں روپے بٹورنے کا الزامایم ڈی کیٹ رجسٹریشن و داخلہ نہ کرانے کا دعویٰ، سال ضائع ہونے کا خدشہ

ملتان (کرائم رپورٹر) زکریا ٹاؤن گلی نمبر 6 میں قائم الحمد گرلز ہاسٹل میں مقیم طالبات زینب علی، عظمہ بی بی، حفظہ جلیل، صباء تبسم اور مریم اعجاز نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہاسٹل انتظامیہ پر ایم ڈی کیٹ رجسٹریشن اور داخلہ کرانے کی مد میں 9 طالبات سے لاکھوں روپے وصول کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ طالبات نے دعویٰ کیا کہ رقم وصول کرنے کے باوجود نہ ایم ڈی کیٹ کی رجسٹریشن کرائی گئی اور نہ ہی متعلقہ یونیورسٹی میں داخلہ بھجوایا گیا، جس سے ان کا قیمتی تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے ۔طالبات کے مطابق انہوں نے ہاسٹل میں تین ماہ قیام کے عوض فی کس 60 ہزار روپے جبکہ دیگر اخراجات کی مد میں 17 ہزار روپے سمیت اضافی رقوم ادا کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ داخلے کے معاملے پر ہاسٹل انتظامیہ جام زاہد عباس طاہر اور میڈم گلشن سے متعدد بار رابطہ کیا گیا، تاہم مبینہ طور پر انہیں نجی بینک کا ایک ووچر فراہم کیا گیا۔طالبات نے سپریم کورٹ، وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب، کمشنر ملتان، ڈپٹی کمشنر ملتان اور محکمہ تعلیم کے حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں، ان کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچایا جائے اور مبینہ طور پر وصول کی گئی رقوم واپس دلانے کے ساتھ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...