ایمرسن یونیورسٹی ، سابقہ بھرتیاں منسوخ، امیدواروں کا احتجاج

ایمرسن یونیورسٹی ، سابقہ بھرتیاں منسوخ، امیدواروں کا احتجاج

ایمرسن یونیورسٹی ، سابقہ بھرتیاں منسوخ، امیدواروں کا احتجاجمتاثرین کا سنڈیکیٹ کو حقائق سے آگاہ نہ کرنے کا الزام، گورنرسے بحالی کا مطالبہ

ملتان (خصوصی رپورٹر)ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں سابقہ اشتہارات کے تحت تدریسی اور غیر تدریسی آسامیوں پر بھرتیوں کی منسوخی کا معاملہ تنازع کا شکار ہو گیا۔ متاثرہ امیدواروں نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسان خالق قریشی اور رجسٹرار ڈاکٹر محمد فاروق کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے سنڈیکیٹ کو مکمل حقائق سے آگاہ نہیں کیا اور انتظامی وجوہات کا جواز پیش کرکے بھرتی کا عمل منسوخ کرایا۔ذرائع کے مطابق یونیورسٹی نے 20 جون 2023ء، 15 اگست 2024ء اور 29 اپریل 2025ء کو مختلف آسامیوں کے لیے اشتہارات جاری کیے تھے ۔ امیدواروں نے درخواستیں جمع کرانے اور مقررہ فیسوں کی ادائیگی کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے تحت تحریری امتحانات میں حصہ لیا۔

امتحانات 19 جولائی 2025ء سے شروع ہوئے ۔ امیدواروں کے مطابق امتحانات اور نتائج کی تیاری مکمل ہونے کے بعد بھرتی کا عمل انٹرویوز کے مرحلے تک پہنچ چکا تھا۔متاثرین کا کہنا ہے کہ سابق وائس چانسلر کے استعفے اور نئے مستقل وائس چانسلر کی اپریل 2026ء میں تعیناتی کے دوران انتظامی تعطل رہا، جس میں امیدواروں کا کوئی قصور نہیں تھا۔ ان کے مطابق سنڈیکیٹ کے آٹھویں اجلاس میں ایجنڈا آئٹم نمبر 21 کے تحت بھرتی کو پرانا اور نامکمل عمل قرار دے کر منسوخ کیا گیا، حالانکہ امتحانات اور نتائج کے مراحل مکمل ہو چکے تھے ۔امیدواروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس فیصلے سے سینکڑوں افراد کی محنت، فیسیں اور سفری اخراجات ضائع ہوئے ، جبکہ عمر کی حد اور دوبارہ فیسوں کی ادائیگی کے مسائل بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے گورنر پنجاب اور چانسلر ایمرسن یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور قانونی رکاوٹ نہ ہونے کی صورت میں بھرتی کا عمل انٹرویوز کے مرحلے سے بحال کیا جائے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...