دھنوٹ انجمن تاجران کے انتخابات، تاجر برادری تذبذب کا شکار
ووٹوں کے اندراج کیلئے 200روپے فیس مقرر، دکانداروں تحفظات کا اظہار
دھنوٹ (نامہ نگار) دھنوٹ میں مرکزی انجمن تاجران کے انتخابات کے سلسلے میں سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں، تاہم تاجر برادری اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہے ۔ ووٹوں کے اندراج کے لیے 200 روپے فیس مقرر کیے جانے پر بھی تاجروں میں تحفظات پائے جاتے ہیں۔تاجروں کا کہنا ہے کہ مختلف کاروباری شعبوں کی اپنی الگ یونینز موجود ہیں، جن میں پیسٹی سائیڈ، کلاتھ مرچنٹس، جنرل اسٹور، ہارڈویئر، ٹنل اسٹور، میڈیکل اسٹور، زرگر اور سیلون یونینز شامل ہیں۔ ان یونینز کے نمائندے باہمی مشاورت سے مرکزی صدر منتخب کرکے تاجروں کے مسائل حل کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرسکتے ہیں، لیکن انجمن تاجران کے انتخابات کو غیر ضروری طور پر سیاسی سرگرمیوں کا رنگ دے دیا جاتا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سڑکوں، سیوریج اور بجلی کے ترقیاتی کاموں کے باعث کاروباری سرگرمیاں پہلے ہی متاثر ہیں۔ کئی دکانداروں کے لیے چوکیدار کی ماہانہ تنخواہ ادا کرنا بھی مشکل ہوچکا ہے ، ایسے حالات میں ووٹ کے اندراج کی فیس ادا کرنا اضافی بوجھ ہے ۔تاجر برادری نے کہا کہ وہ پہلے ہی کاروباری مشکلات اور مختلف محکموں کے ٹیکسوں سے پریشان ہیں، جبکہ انتخابی سرگرمیوں نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تاجروں کے مسائل کو ترجیح دی جائے اور انتخابی عمل کو غیر ضروری اخراجات سے پاک رکھا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments