بھارت پاکستان کا پا نی روک سکتا نہ ہی رخ موڑ سکتا ہے,ماہرین
ایسا کرنا بھارت کیلئے ممکن نہیں،پاکستان میں پانی کا مینجمنٹ سسٹم بہتر کیاجائے ،ضائع نہ کریں،پروفیسر دانش مصطفی ,پانی ذخیرہ کرنے پر توجہ نہیں دی گئی، ڈاکٹر شاہین ، قلت کا سامنا ہو سکتا ہے ،رضوان کوکب ، عبدالعجاز کا اظہار خیال
سرگودھا(سٹاف رپورٹر ) پاکستان کا پانی روکنا بھارت کے بس کی بات نہیں، بھارت اگر پاکستان کا پا نی روکنے کی کوشش بھی کرتا ہے تو اسے صرف منصوبہ بندی میں ہی کئی سال لگ جائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار قومی و بین الاقوامی ماہرین نے سرگودھا یونیور سٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ‘‘پانی کا بحران : پاکستان کیوں خشک ہو رہا ہے ’’ کے موضوع پر منعقدہ ویبینار میں کیا ۔ کنگز کالج لندن کے شعبہ جیوگرافی سے پروفیسر ڈاکٹر دانش مصطفینے کہا کہ یہ سوچ غلط ہے کہ بھارت پاکستان کے حصے کاپانی بند کر دے گا، ایسا ممکن نہیں۔بھارت پانی کا رخ نہیں موڑ سکتا،ہمیں حقائق دیکھنے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان میں پانی کا مینجمنٹ سسٹم بہتر بنانے کیلئے نتیجہ خیز اقدامات کیے جائیں اورپانی کو ضائع نہ ہونے دیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے ڈاکٹر شاہین اخترنے کہا کہ پاکستان بڑی تیزی سے آبی قلت کا شکار ہو رہا ہے اور آنے والے چند سالوں میں پانی کی کمی سنگین صورتحال اختیار کر جائے گی ۔ سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت پاکستان کے پانی پر اثر انداز ہو رہا ہے ۔سندھ کا65فیصد ، جہلم کا50فیصداور چناب کا 49فیصد پانی گرمیوں کے دو سے تین ماہ کے دوران گلیشئرپگھلنے سے آتا ہے تاہم اس پانی کو بہتر انداز میں ذخیرہ کرنے پر توجہ ہی نہیں دی گئی اور پانی کا بڑا حصہ ضائع ہوجاتا ہے ۔ڈاکٹر رضوان اﷲ کوکب نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کا پانی روکنے کیلئے حکمت عملی بنانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں،عملی طور پر ایسا کرنا بھارت کیلئے ممکن نہیں تاہم آئندہ وقتوں میں پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ عبدالعجاز نے کہا کہ پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرنے کیلئے عوام کو شامل کرنا ہوگا۔ پانی کی تقسیم کے نظام کو بہتر کر لیا جائے تو قلت کے مسئلہ پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔