ملزمالکان ،افسروں کا گٹھ جوڑ،گندم سٹاک کے غلط اعدادوشمار
سرگودھا(نعیم فیصل سے )گندم کے سٹاک ڈکلیئر کرنے کے حوالے سے فلور ملز مالکان اور محکمہ فوڈ افسران کے گٹھ جوڑ کے باعث غلط اعدادوشمار کا انکشاف، متعلقہ افسران کے خلاف کاروائی شروع کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا۔۔۔
جبکہ آٹے کے دس کلو تھیلے کی قیمت میں مزید 50روپے اضافہ پر صارفین تلملا کر رہ گئے ، ذرائع کے مطابق حکومت نے سرگودھا سمیت صوبہ بھر میں گندم کی قیمت کو کنٹرول کرنے کیلئے تمام سٹاکسٹوں اور فلور ملز مالکان کو اپنے اپنے سٹاک ڈکلیئر کروا کر رجسٹرڈ کروانے کی مہلت دی اور اسکے ساتھ ساتھ محکمہ فوڈ افسران سے بھی فلور ملوں میں ذخیرہ گندم کی تصدیقی رپورٹس طلب کر لیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر سٹاکسٹوں نے گندم خفیہ مقامات پر منتقل کر دی بعض نے انتہائی کم سٹاک ظاہر کئے جبکہ بعض فلور ملوں کی انتظامیہ نے محکمہ فوڈ افسران کے ذریعے حکومتی مشینری کو رپورٹ ارسال کروائی کہ ان کی ملوں میں گندم کی ایک بھی بوری موجود نہیں، چیکنگ کے دوران انکشاف ہوا کہ بعض فوڈ افسران نے مبینہ ساز باز کر کے ضلعی افسران کو غلط اعداد و شمار بھجوائے ، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف سرگودھا میں لگ بھگ ایک لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کا سٹاک ظاہر نہیں کیا گیا، تاحال چھپائی گئی6ہزار میٹرک ٹن گندم کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے جبکہ مزید چھان بین جاری ہے دوسری جانب غلط اعداد و شمار پر حکام بالا نے ضلعی افسران کی بھی سرزنش کی ،ابتدائی طور پر ایسے گرین فوڈ انسپکٹرز جنہوں نے سٹاک چھپانے میں فلو ر ملوں کی مد د کی ہے کو شوکاز نوٹسز کا اجراء شروع کر دیا گیا ،دوسری جانب مزید پچاس اضافہ کے بعدآٹے کا دس کلو کا تھیلا1100روپے تک پہنچ گیا ہے جس پر صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ دس کلو تھیلے کی قیمت واپس 700روپے پر لائی جائے ۔