موسمیاتی تبدیلی بڑھتے اخراجات کینو کی پیداوار متاثر

موسمیاتی تبدیلی بڑھتے اخراجات کینو کی پیداوار متاثر

ڈیزل، بجلی، کھاد اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ،جعلی زرعی ادویات سے بھی بے پناہ مسائل بڑھ گئے ، ایکسپورٹ کوالٹی کینو کی پیداوار انتہائی کم :کاشتکار

سرگودھا (نعیم فیصل سے )موسمیاتی تبدیلیوں، باغات کی دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی نے سرگودھا میں سٹریس کی پیداوار کو شدید متاثر کیا ہے ۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ ڈیزل، بجلی، کھاد اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور جعلی زرعی ادویات کی مارکیٹ میں زیادتی نے انہیں بے پناہ مسائل میں مبتلا کر دیا ہے ۔کاشتکاروں کے مطابق خاص طور پر ایکسپورٹ کوالٹی کینو کی پیداوار انتہائی کم ہے ، اور ہر سال بیماریوں اور وائرس کی وجہ سے سینکڑوں ایکڑ باغات خراب ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیادہ تر کینو مقامی منڈیوں میں بیچا جاتا ہے اور صرف 10 سے 12 فیصد پیداوار برآمد کی جاتی ہے ، جس سے کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ذرائع کے مطابق رواں برس کینو کی مجموعی پیداوار تقریباً 28 لاکھ ٹن ہے ، تاہم ایکسپورٹ کا ہدف صرف 3 لاکھ ٹن ہے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک میں ترشاوہ پھلوں کی 70 سے زائد اقسام کمرشل سطح پر پیدا ہو رہی ہیں، جبکہ پاکستان میں صرف کینو، مسمی اور فلوٹر دستیاب ہیں۔ اس مرتبہ فلوٹر کا سائز بھی چھوٹا ہے اور صرف مقامی منڈیوں میں کم داموں فروخت ہو رہا ہے ۔دوسرے ممالک میں مخصوص رقبہ پر اوسط پیداوار 25 ٹن ہے ، جبکہ پاکستان میں یہ صرف 8 ٹن ہے ، اور پیداواری اخراجات زیادہ ہیں کیونکہ دیگر ممالک جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے کینو کی پیداوار بڑھانے کے لیے کوئی موثر حکمت عملی وضع نہیں کی گئی، جس سے صورتحال تشویشناک بنتی جا رہی ہے ۔ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت توجہ دے اور اخراجات میں ریلیف فراہم کرے تو زرمبادلہ میں 50 ارب روپے تک اضافہ ممکن ہے ۔ دوسری جانب حکومت نے کینو کی پیداوار بڑھانے کے لیے \\\"ریوائیول آف سٹرس انڈسٹری پروگرام\\\" شروع کیا ہے اور اس کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے ، تاہم اس صنعت کو مستحکم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے میں کم از کم پانچ سے سات سال درکار ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں