سرکاری زمینوں املاک کی نجکاری چیلنج بن گئی

سرکاری زمینوں املاک کی نجکاری چیلنج بن گئی

قیمتوں پر نظر ثانی نہ ہو سکی ، حکومتی خزانے کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ،ا ز سرنو قیمتیں مقرر کرنے ،نئی سرکاری زمینوں کی نشاندہی کے لئے ای ڈی سی جی کو ٹاسک

سرگودھا (نعیم فیصل سے) ضلع میں سرکاری زمینوں اور املاک کی پرائیوٹائزیشن کے حوالے سے جہاں رواں مالی سال کے دیئے گئے اہداف کی تکمیل ایک چیلنج بنی ہوئی ہے وہاں ان سرکاری زمینوں و املاک کی قیمتوں میں مارکیٹ کے حساب سے ہونیوالے اضافہ کے بعدان کے تخمینہ جات پر نظر ثانی نہ ہونے سے حکومتی خزانے کو مزید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ، جس پر صوبائی حکومت نے ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی کو فوری نظر ثانی کر کے ان کی ا ز سرنو قیمتیں مقرر کرنے اور نئی سرکاری زمینوں کی نشاندہی کیلئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرریونیو کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا ہے ،ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے دوران بھی سرکاری زمینوں و املاک کی نیلامیوں، پرائیوٹائزیشن کا عمل دیئے گئے اہداف سے دور ہے جبکہ حکومت دو مرتبہ شیڈول ریوائزڈ کر چکی ہے اس کے باوجود عملی اقدامات روایتی سستی کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ حکومت کے علم میں یہ بھی آیا ہے کہ بہت سے علاقے ایسے ہیں جن کی زمینوں و املاک کا تعین 2سال قبل کیا گیا تھا جبکہ اس دوران متعلقہ علاقوں میں مارکیٹ کے لحاظ سے زمینوں و املاک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ، اس حوالے سے منڈ ی سلانوالی، بھکھی کھوکھراں والی، چھنی محمد قاضی،جھال چکیاں، 42,43,45 اور 47شمالی سمیت دیگر علاقوں میں پڑی اربوں روپے کی سرکاری اراضی کی نشاندہی بھی کی گئی کہ یہ 2024اور 2025میں بھی نیلام نہیں ہو سکیں، نئی شناخت شدہ سرکاری زمین / حکومتی جائیدادوں کی تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے ، اور ڈی پی اے سی کے ذریعے جانچ کا عمل ایک ہفتے کے اندر اندر مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں