ماڈل ٹاؤن سکیم کو نجی شعبہ کے اشتراک سے آباد نہ کیا جاسکا

 ماڈل ٹاؤن سکیم کو نجی شعبہ کے اشتراک سے آباد نہ کیا جاسکا

ہاؤسنگ سکیم کے فعال ہونے کے منتظر متاثرین کی بڑی تعداد خوار ہو کر رہ گئی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر)سیاسی مداخلت اور متعلقہ اداروں کی کوارڈی نیشن نہ ہونے کی وجہ سے بدعنوانیوں کی نذر ہو کر فلاپ ہونیوالی ہاؤسنگ سکیم ماڈل ٹاؤن کو پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے آباد کرنے کیلئے اقدامات 2025میں بھی نہیں اٹھائے جا سکے ،جبکہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد خوار ہو کر رہ گئی ہے ،تفصیل کیمطابق سرگودھا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذیلی شعبہ امپروومنٹ ٹرسٹ کے زیر اہتمام لاہور روڈ پر تیس سال قبل ماڈل ٹاؤن کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا اس ضمن میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ بھی کی گئی، مگریہ ہاؤسنگ سکیم مناسب ڈویلپمنٹ نہ ہونے اور مبینہ کرپشن کی وجہ سے ابھی تک ویران پڑی ہے ، جبکہ مختصر ترقیاتی کام بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔

گزشتہ سال کے آغاز پر ضلعی انتظامیہ نے اس ہاؤسنگ منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کے تعاون سے اقدامات کا فیصلہ کیا تھا ،ابتدائی طور پر ہاؤسنگ سکیم کو مثالی بنانے کیلئے ایک ارب روپے کا تخمینہ لگاتے ہوئے خالی پلاٹ نیلام کرنے کا پروگرام بھی ترتیب دیا ،اس سلسلہ میں ایس ڈی اے کے سابق سیاسی چیئرمین کی جانب سے بھی بہت کوشش کی گئی مگر مختلف رکاوٹوں اور پلاٹوں کی ایک سے زائد ناموں پر الاٹمنٹ سمیت دیگر امور کے باعث اس پروگرام کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا،الاٹیوں جو کہ اس ہاؤسنگ سکیم کے فعال ہونے کے منتظر ہیں ایک مرتبہ پھر ناامید ہو کر رہ گئے ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں