آبادیوں کو سیلاب سے بچانے کیلئے کروڑوں روپے کے فنڈز جھونک دیئے گئے

آبادیوں کو سیلاب سے بچانے کیلئے کروڑوں روپے کے فنڈز جھونک دیئے گئے

پانی کے بہاؤ کا کنٹرول چیلنج بنا ہوا صورتحا ل کی نزاکت کے پیش نظر اب مزید تین اسٹڈ ز کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ،ریویٹمنٹ میں کٹاؤ پیدا ہونے سے متعدد آبادیاں متاثر ہوئیں

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) متعلقہ شعبوں کی ناقص حکمت عملی اور ڈنک ٹپاؤ پالیسی کے باعث دریائے چناب طالب والا کے مقام پر پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے اور ملحقہ آبادیوں کو سیلابی صورتحال سے بچانے کیلئے کروڑوں روپے کے سرکاری فنڈز جھونک دیئے گئے ،جبکہ پانی کے بہاؤ کا کنٹرول اب بھی ایک چیلنج بنا ہوا اور صورتحا ل کی نزاکت کے پیش نظر اب مزید تین اسٹڈ ز کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے ،ذرائع کے مطابق محکمہ آبپاشی نے 2017 میں \\\"قادرباد بیراج سے طالب والا موٹروے پل کے نیچے \\\" دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کیلئے مرادوالا کے اوپر دائیں کنارے سے جڑی ہوئی بغیر شینک کی الٹی ہاکی ساخت اور مرادوالا کے سامنے ایک گائیڈ وال اور 7پتھریلے اسٹڈ تعمیرکئے ، 2021 میں دریا کا رخ موضع مرادوالا اور امام بارگاہ کے مقام پر بائیں کنارے کی طرف منتقل ہو گیا دریا کی اس تبدیلی کی وجہ سے ماڈل اسٹڈی میں تجویز کردہ الٹی ہاکی اور گائیڈ وال کی ساختیں موقع پر نافذ نہیں کی گئیں اور2023میں دریا کا بہاؤ دوبارہ دائیں کنارے کی طرف منتقل ہونا شروع ہو گیا، یہی نہیں سیلابی موسم کے دوران محکمہ کو موضع مرادوالا اور سکندے میں امام بارگاہ کے قریب اور موجودہ سات پتھریلے اسٹڈز کی جگہ پر اسی طرح کے کٹاؤ کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا،اس کے ساتھ ساتھ اسٹڈ نمبر 1 کے اوپر اور اوپر والے ریویٹمنٹ میں کٹاؤ پیدا ہونے سے متعدد آبادیاں متاثر ہوئیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں