پتھر مارکیٹ میں کرشنگ سے حاصل پائوڈر نما خاکہ کی تیاری انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات
مائنز کی اعلیٰ سطحی ٹیم نے انسپکشن کے دوران خاکہ کی تیاری کی تصدیق کی ،مزید کارروائی آگے نہ بڑھ سکی،متعلقہ اداروں سے فوری دوبارہ رپورٹ طلب کر لی اور ایکشن کا حکم دے دیا
سرگودھا(نعیم فیصل سے )سرگودھا کی پتھر مارکیٹ میں کرشنگ سے حاصل ہونے والے پاؤڈر نما \\\"خاکہ\\\" کی بڑے پیمانے پر تیاری اور اس کی سیمنٹ میں مبینہ ملاوٹ کے حوالے سے سامنے آنے والے اہم انکشافات نے متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اعلیٰ حکام نے تحقیقات اور ممکنہ کارروائی کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ 119 جنوبی موڑ، 126 جنوبی، 123 جنوبی، 116 جنوبی اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں قائم متعدد کریشر پلانٹس پر بجری کی باریک پیسائی کے ذریعے پاؤڈر نما مواد (خاکہ) تیار کیا جاتا ہے ۔
اس مواد کو الگ سٹاک کرنے کے بعد مبینہ طور پر مختلف افراد کے ذریعے مقامی سطح پر قائم ایک بڑے یونٹ کو فروخت کیا جاتا ہے ، جہاں اسے سیمنٹ میں ملا کر استعمال کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں،ذرائع کے مطابق ماضی میں بھی اس حوالے سے شکایات موصول ہونے پر محکمہ مائنز کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم نے انسپکشن کے دوران خاکہ کی تیاری کی تصدیق کی تھی، تاہم اس کے بعد مزید کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔
رائع کا دعویٰ ہے کہ نہ صرف معاملے کو سرد خانے کی نذر کر دیا گیا بلکہ شکایات کی نشاندہی کرنے والے بعض افراد کو بھی خاموش کرا دیا گیا،اب اس معاملے نے دوبارہ اس وقت شدت اختیار کی جب آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے اعلیٰ حکام کو تفصیلی رپورٹ ارسال کی۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سرگودھا کی پتھر مارکیٹ میں غیر قانونی کرشنگ خاکہ کی تیاری، سیمنٹ میں مبینہ ملاوٹ، وفاقی ایکسائز ڈیوٹی اور جنرل سیلز ٹیکس کی چوری، معدنی رائلٹی کی عدم ادائیگی اور دیگر بے ضابطگیوں کے ذریعے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔
، ذرائع کے مطابق اعلیٰ انتظامیہ نے ان الزامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ ابتدائی طور پر تحقیقات مکمل ہونے تک متعلقہ سرگرمیوں کو معطل، سیل یا کسی بھی قانونی طریقے سے روکنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشترکہ معائنہ، ٹیکس اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی تعمیل کا آڈٹ، اور تمام لائسنسز، رجسٹریشنز اور این او سیز کی جانچ پڑتال کے لیے بھی اقدامات شروع کیے جا رہے ہیں۔