بلڈرز کے عدم تعاون پر عدالت برہم، عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج
ہدایات کے باوجود بلڈرز نے متاثرین کی داد رسی اور شکایات کے ازالے کے لیے فوکل پرسن مقرر نہیں کیا،تفتیشی افسر اگر بلڈرز متاثرین کی داد رسی نہیں کر رہے تو ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے ،جسٹس محمد سلیم جیسر کے ریمارکس
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے اسکیم 33 کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 650 سے زائد متاثرین کو پلاٹس اور لیز فراہم نہ کرنے سے متعلق کیس میں بلڈرز کی جانب سے تعاون نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں۔ سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر نے عدالت کو کیس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ 60 متاثرین کی فہرست بلڈرز کو فراہم کی گئی تھی، تاہم ان کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ متاثرین کو پلاٹس کی لیز دینا ہی نہیں چاہتے ۔
تفتیشی افسر کے مطابق بار بار ہدایات کے باوجود بلڈرز نے متاثرین کی داد رسی اور شکایات کے ازالے کے لیے کوئی فوکل پرسن مقرر نہیں کیا۔ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ اگر بلڈرز متاثرین کی داد رسی نہیں کر رہے تو ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے ۔ بلڈرز کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے مؤقف اختیار کیا کہ صورت حال وہ نہیں جو نیب کی جانب سے بیان کی جا رہی ہے ۔ اس پر جسٹس سلیم جیسر نے استفسار کیا کہ متاثرین نے پلاٹس کب بک کروائے تھے ؟متاثرین کے وکیل ملک الطاف جاوید نے عدالت کو بتایا کہ متاثرین نے 1992 میں پلاٹس خریدے تھے ، لیکن تاحال نہ انہیں پلاٹس کا قبضہ دیا گیا اور نہ ہی لیز جاری کی گئی۔
بلڈرز کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ نیب کی جانب سے فراہم کی گئی فہرست میں شامل بیشتر متاثرین کو لیز جاری کی جا چکی ہے ، تاہم نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر 622 متاثرین نے نیب میں شکایات جمع کرا رکھی ہیں۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے بلڈرز کی جانب سے تعاون نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور ملزمان رحمت الٰہی، قاسم لاسی اور منظور روفی کی عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ ملزمان سات روز کے اندر احتساب عدالت سے رجوع کرکے عبوری ضمانت حاصل کرنے کے لیے درخواست دائر کر سکتے ہیں۔