بلدیاتی ادارے شدید انتظامی اور مالی بحران کا شکار

بلدیاتی  ادارے  شدید  انتظامی  اور  مالی  بحران  کا  شکار

مالی وسائل اور انتظامی اختیارات بتدریج کم ہوتے چلے گئے ،تہہ بازاری فیس، چونگی ٹیکس اور دیگر مقامی محصولات ختم چونگی ٹیکس کے متبادل گرانٹ دی جاتی رہی، یہ گرانٹ اداروں کی مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے ناکافی ثابت ہوئی

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) حکومتوں کی مسلسل ناقص منصوبہ بندی اور اختیارات و وسائل کی تقسیم کے باعث شہریوں کے بنیادی مسائل حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے بلدیاتی ادارے خود شدید انتظامی اور مالی بحران کا شکار ہو گئے ہیں ذرائع کے مطابق دنیا بھر میں بلدیاتی اداروں کو مقامی حکومت کا بنیادی ستون تصور کیا جاتا ہے جو صفائی، پینے کے پانی، سیوریج، سڑکوں، پارکوں، تجاوزات، ٹیکس وصولی اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، مگر پاکستان میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مختلف حکومتوں کی پالیسیوں کے باعث ان اداروں کے مالی وسائل اور انتظامی اختیارات بتدریج کم ہوتے چلے گئے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کے سابقہ دورِ حکومت میں تہہ بازاری فیس، چونگی ٹیکس اور دیگر مقامی محصولات ختم کر دیے گئے ، جس سے بلدیاتی اداروں کی آمدن میں نمایاں کمی واقع ہوئی، اگرچہ چونگی ٹیکس کے متبادل حکومت کی جانب سے گرانٹ دی جاتی رہی، تاہم متعلقہ حکام کے مطابق یہ گرانٹ اداروں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی،بعد ازاں جنرل پرویز مشرف کے دور میں بلدیاتی اداروں کے زیر انتظام سکول اور بنیادی مراکز صحت متعلقہ محکموں کے سپرد کر دیے گئے ، جبکہ جنرل بس اسٹینڈز ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں چلے گئے ،اسی دوران پارکس اور اشتہاری بورڈز کی فیس پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے ) کے حوالے کر دی گئی،علاوہ ازیں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے وصول کیے جانے والے پراپرٹی ٹیکس میں سے بلدیاتی اداروں کو ملنے والا پچاس فیصد حصہ بھی واسا کو منتقل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں