خواتین ہراسانی کیخلاف انکوائری کمیٹی کی نئے سرے سے تشکیل

خواتین ہراسانی کیخلاف انکوائری کمیٹی کی نئے سرے سے تشکیل

کنوینراسسٹنٹ کمشنر ریونیو،عنبرین اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ،سرگودھااورسپرنٹنڈنٹ جنرل، کمشنر آفس کمیٹی کے ارکان میں شامل، مقصد خواتین کو محفوظ بنانا ہے

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) دفتری ماحول میں خواتین کے وقار اور تحفظ کے حوالے سے ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔ کمشنر شوکت علی نے قانون کی عملداری اور شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے خواتین ہراسانی کے خلاف انکوائری کمیٹی کو نئے سرے سے تشکیل دیدیا تاکہ متاثرہ خواتین کی شکایات پر بلاتاخیر اور غیر جانبدارانہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے کمشنر کی جانب سے جاری کردہ حکم نامہ کے مطابق یہ اقدام ’’دی پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ دی ورک پلیس ایکٹ‘‘ کے تحت اٹھایا گیا ہے ۔ سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ایکٹ کے تحت موصول ہونے والی شکایات کی مؤثر تحقیقات کے لیے کمشنر آفس سرگودھا ڈویژن میں درج ذیل عہدیداران پر مشتمل انکوائری کمیٹی (بلحاظ عہدہ) تشکیل دی گئی ہے ،جس کے کنوینراسسٹنٹ کمشنر (ریونیو)، سرگودھا ہونگے جبکہ محترمہ عنبرین اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ (ہیڈکوارٹرز) سرگودھا اور سپرنٹنڈنٹ جنرل، کمشنر آفس کمیٹی کے ارکان میں شامل ہیں،کمیٹی کا بنیادی مقصد سرکاری و نجی دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو ایک محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کرنا ہے جبکہ کسی بھی قسم کی ہراسانی کی صورت میں شفاف اور بروقت تحقیقات کو یقینی بنانا اس قانون کا لازمی جزو ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی کمیٹیوں کا فعال اور بروقت قیام سرکاری اداروں میں خواتین ملازمین کے اعتماد کو مضبوط بنانے کیساتھ ساتھ ہراسانی جیسے سنگین مسئلے کی روک تھام میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...