محکمہ انہار اراضی پر قبضے، چھان بین میں اہم انکشافات

محکمہ انہار اراضی پر قبضے، چھان بین میں اہم انکشافات

حکومت کی جانب سے کارروائی کی ہدایت کی گئی ، تاہم عملدرآمد کی رفتار سست ، این او سی کے بغیر وسیع ی رقبہ جات کی الاٹمنٹ کیے جانے کا بھی انکشاف

سرگودھا (سٹاف رپورٹر )محکمہ انہار کی قیمتی سرکاری اراضی پر مبینہ قبضوں اور غیر قانونی الاٹمنٹس کی چھان بین کے دوران مزید انکشافات سامنے آنے سے محکمہ مال اور انہار کے متعلقہ افسران کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ۔ ذرائع کے مطابق سرگودھا سمیت ریجن بھر میں محکمہ انہار کے رقبہ جات واگزار کرانے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے پہلے ہی واضح گائیڈ لائنز جاری کرکے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم ان احکامات پر عملدرآمد کی رفتار انتہائی سست ہے ۔ابتدائی چھان بین کے مطابق بعض مقبوضہ رقبہ جات کو نمبرداری گرانٹ کے شیڈول میں شامل کرنے کے لیے اختیارات کے مبینہ استعمال کا انکشاف ہوا ہے ، جبکہ بعض معاملات میں متعلقہ حکام نے ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کے بغیر ہی الاٹمنٹس کردی تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ضلعی افسروں نے بھی ریکارڈ کی تصدیق اور حقائق سامنے لانے کے بجائے مبینہ غفلت کا مظاہرہ کیا، جبکہ متعدد معاملات میں ضروری این او سی کے بغیر وسیع سرکاری رقبہ جات کی الاٹمنٹ کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے ۔ذرائع کے مطابق ایسی تمام متنازعہ الاٹمنٹس کو منسوخ قرار دیا جاچکا ہے ، تاہم مبینہ طور پر ذمہ دار عناصر کے خلاف مزید کارروائی میں اثرورسوخ رکاوٹ بن رہا ہے ، جس کے باعث معاملہ ایک مرتبہ پھر سست روی کا شکار ہوگیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر معاملے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تو محکمہ انہار کی قیمتی سرکاری اراضی کے حوالے سے مزید اہم حقائق سامنے آنے کا امکان ہے ۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اراضی کے تحفظ کے لیے ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...