بھیرہ میں سیم نالہ مویشیوں کیلئے موت کا جال بن گیا
بھیرہ میں سیم نالہ مویشیوں کیلئے موت کا جال بن گیاسوا کروڑ سے زائد مالیت کی 15 بھینسیں ہلاک، 5 کو مقامی افراد نے بچا لیا
سرگودھا (سٹاف رپورٹر)تحصیل بھیرہ کے نواحی علاقے چاوہ میں سیم نالہ مویشیوں کے لیے موت کا جال ثابت ہوا، جہاں دلدل اور خود رو جڑی بوٹیوں میں پھنس کر سوا کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 15 قیمتی بھینسیں ہلاک ہوگئیں، جبکہ 5 دیگر بھینسوں اور ایک ملازم کو مقامی افراد نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچا لیا۔ زمیندار احمد نواز کی 20 بھینسیں سیم نالہ عبور کر رہی تھیں کہ اچانک نالے میں موجود گھنی جڑی بوٹیوں اور دلدلی زمین میں پھنس گئیں۔ بھینسوں کو نکالنے کی کوششوں کے باوجود 15 جانور ہلاک ہوگئے ، جبکہ 5 کو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زندہ نکال لیا۔ متاثرہ زمیندار کے مطابق جانوروں کو بچانے کی کوشش کے دوران ان کا ملازم محمد بھی سیم نالے میں پھنس گیا تھا، تاہم مقامی لوگوں نے فوری امدادی کارروائی کرتے ہوئے اسے بحفاظت باہر نکال لیا۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سیم نالے میں خود رو جڑی بوٹیوں اور دلدلی مقامات کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں، تاہم متعلقہ محکموں کی جانب سے بروقت صفائی اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث یہ مقام انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے ۔
ان کے مطابق اگر نالے کی باقاعدہ صفائی کی جاتی تو اس بڑے نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔احمد نواز نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والی 15 بھینسوں کی مجموعی مالیت سوا کروڑ روپے سے زائد ہے ، جس سے انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔مقامی افراد نے مطالبہ کیا کہ سیم نالوں کی صفائی کو محض کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل بنیادوں پر مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے ۔واقعے کے بعد سیم نالوں کی صفائی، نکاسی آب کے نظام اور مویشیوں کی محفوظ آمدورفت کے حوالے سے متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ زمیندار احمد نواز نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے ، ذمہ داروں کا تعین کرنے ، سیم نالے کی ہنگامی بنیادوں پر صفائی کرانے اور اپنے مالی نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments