صاف پانی نہ سیوریج،سڑکیں گندگی اور گردوغبار سے بھر گئیں،ستھرا پنجاب غائب
جن گھروں میں پانی کی سہولتیں میسر نہیں، وہاں بھی بل بھیج دیے جاتے ،اپنے مؤقف کی وضاحت کیلئے متعلقہ دفاتر کے چکر لگانا پڑتے
سرگودھا(سٹاف رپورٹر) سرگودھا میں بیشتر علاقوں میں پینے کا صاف پانی میسر نہ سیوریج کا مؤثر نظام، گلیاں گندگی سے اور سڑکیں گردوغبار کی لپیٹ میں، مگر واسا اور ستھرا پنجاب کی جانب سے ناقص منصوبہ بندی اور ڈنک ٹپاؤ پالیسی کے باعث بنیادی سہولتوں سے محرومی کے باوجود شہریوں کی ایک بڑی تعداد ادائیگیوں اور دفتری چکروں میں پسنے لگی۔ شہر کی مختلف آبادیوں میں واسا کی جانب سے پانی اور سیوریج کے بل بھجوائے جا رہے ہیں، حالانکہ متعدد علاقوں کے مکینوں کے مطابق انہیں یہ سہولتیں سرے سے دستیاب ہی نہیں۔ کہیں پینے کے صاف پانی کی فراہمی مسئلہ بنی ہوئی ہے تو کہیں سیوریج کا گندا پانی گلیوں اور آبادیوں میں کھڑا رہنے سے شہریوں کے لیے عذاب بن چکا ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جن گھروں میں پانی اور سیوریج کی سہولتیں میسر نہیں، وہاں بھی بل بھیج دیے جاتے ہیں، جس کے بعد اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے متعلقہ دفاتر کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔ صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ متعدد علاقوں میں سیوریج کا پانی نکلوانے کے لیے مکین اپنی مدد آپ کے تحت سینٹری ورکرز کو رقم جمع کرکے دیتے ہیں، تب کہیں جا کر نکاسی آب کا مسئلہ حل ہوتا ہے ۔ شہریوں کے مطابق اگر واسا حکام بلوں کی وصولی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا کچھ حصہ بھی پانی کی فراہمی اور سیوریج نظام کی بہتری پر صرف کریں تو عوام کو ریلیف مل سکتا ہے اور لوگ بھی بل ادا کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments