نئے اداروں کا قیام سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ بننے لگا

نئے اداروں کا قیام سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ بننے لگا

ذیلی اداروں کا جال بچھانے کے باوجود مالی خود کفالت کا ہدف حاصل نہ ہو سکا، ملازمین کی تنخواہوں، دفاتر کے اخراجات اور انتظامی امور کے لیے حکومتی گرانٹس پر انحصار انتظامی اخراجات میں اضافے کے باوجود صفائی ستھرائی، سیوریج، نکاسی آب اور دیگر بنیادی شہری سہولیات سے متعلق شکایات برقرار ،کوئی مسئلہ حل نہیں ہو رہا

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) عوامی مسائل کے حل کے نام پر نئے اداروں اور ایجنسیوں کا قیام سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ بننے لگا، صوبائی اتھارٹیز کے بعد ضلعی اور تحصیل سطح پر ذیلی اداروں کا جال بچھانے کے باوجود مالی خود کفالت کا ہدف حاصل نہ ہو سکا، ملازمین کی تنخواہوں، دفاتر کے اخراجات اور انتظامی امور کے لیے حکومتی گرانٹس پر انحصار برقرار، دوسری جانب صفائی، نکاسی آب اور شہری سہولیات سے متعلق شکایات بھی ختم نہ ہو سکیں، اداروں کی توسیع اور بھاری اخراجات کے مقابلے میں عملی کارکردگی بدستور سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے ،ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے ستھرا پنجاب، واسا اور پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹیز سمیت مختلف اداروں کو ضلعی اور تحصیل سطح تک وسعت دے کر نئی ایجنسیاں قائم کرنے کا مقصد عوامی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی امور کو نچلی سطح پر مؤثر بنانا تھا، تاہم اداروں کے پھیلتے ڈھانچے کے ساتھ سرکاری اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ان ایجنسیوں کے ملازمین کی تنخواہوں، دفاتر کے کرایوں و انتظامی اخراجات اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت کو مسلسل مالی گرانٹس فراہم کرنا پڑ رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان اداروں کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدن کے ذرائع پیدا کرنے اور ریکوری کا نظام بہتر بنانے کی ہدایات بھی جاری کی تھیں، لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود متعدد ایجنسیاں مطلوبہ مالی خود کفالت حاصل نہیں کر سکیں اور ان کا انحصار بدستور سرکاری فنڈز پر ہے ۔ دوسری جانب اداروں کے قیام اور انتظامی اخراجات میں اضافے کے باوجود صفائی ستھرائی، سیوریج، نکاسی آب اور دیگر بنیادی شہری سہولیات سے متعلق شکایات برقرار ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...