گندم کی کاشت کا ہدف پورانہ کرنے والے زراعت کے افسروں کے خلاف کارروائی کا عندیہ

گندم کی کاشت کا ہدف پورانہ کرنے والے زراعت کے افسروں کے خلاف کارروائی کا عندیہ

رواں سال گندم کی کاشت کا ہدف 17 لاکھ 25 ہزار ایکڑ مقرر ، پچھلے سال کم رقبے پر کاشت ہو ئی ،کمی کے پیش نظر محکمہ زراعت کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) حکومت پنجاب نے گندم کی کاشت کا مقررہ ہدف پورا نہ کرنے والے اضلاع کے محکمہ زراعت کے افسران کیخلاف سخت محکمانہ کارروائی کا عندیہ دیدیا اورزرعی افسران کو واضح کر دیا گیا کہ جس ضلع میں مقررہ ہدف سے کم رقبے پر گندم کاشت ہوئی، وہاں متعلقہ افسران کو جواب دہ ہونا پڑے گا، حکومت نے رواں سیزن میں گندم کی زیادہ سے زیادہ کاشت یقینی بنانے کے لیے فی من قیمت 4 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کے ساتھ زرعی گریجویٹ نوجوانوں کو کنٹریکٹ پر بھرتی کرکے زمینداروں کی رہنمائی اور کاشت کے اہداف کے حصول کی ذمہ داری بھی سونپی ہے ۔ سرگودھا ضلع کے لیے رواں سال گندم کی کاشت کا ہدف 17لاکھ 25 ہزار ایکڑ مقرر کیا گیا ہے ، جبکہ گزشتہ سال17 لاکھ 20 ہزار ایکڑ کے ہدف کے مقابلے میں صرف 16لاکھ84 ہزار ایکڑ رقبے پر گندم کاشت ہو سکی تھی، یوں گزشتہ سیزن میں مقررہ ہدف سے 36 ہزار ایکڑ کم رقبے پر کاشت ہوئی۔

گزشتہ سال کی اس کمی کے پیش نظر رواں سیزن میں محکمہ زراعت کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں اور افسران کو نہ صرف کاشتکاروں کو گندم کی کاشت کی طرف راغب کرنا ہوگا بلکہ روزانہ کی بنیاد پر ہدف کے حصول کی پیش رفت بھی یقینی بنانا ہوگی، حکومتی پالیسی کے تحت زرعی گریجویٹ نوجوان کسانوں کو جدید پیداواری طریقوں، معیاری بیج، کھادوں کے متوازن استعمال اور بہتر زرعی رہنمائی فراہم کریں گے تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے ساتھ مجموعی کاشت کا ہدف بھی حاصل کیا جا سکے تاہم گزشتہ سال کا ہدف پورا نہ ہونے کے بعد رواں سال محکمہ زراعت کے افسران کیلئے محض اعدادوشمار کی تکمیل نہیں بلکہ عملی نتائج دکھانا بھی اہم ہوگا، کیونکہ حکومتی ہدایات کے مطابق ہدف سے کم کاشت کی صورت میں متعلقہ افسران کو محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...