دبئی کیش لیس پالیسی، 2026 تک 90 فیصد لین دین ڈیجیٹل کرنے کا ہدف برقرار
دبئی: (سید مدثر خوشنود)دبئی حکومت نے کیش لیس حکمت عملی کے تحت 2026 کے اختتام تک امارت میں 90 فیصد مالی لین دین کو ڈیجیٹل بنانے کے ہدف پر زور دیا ہے، جس کے تحت سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں محفوظ اور ہموار ڈیجیٹل ادائیگیوں کو وسعت دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پالیسی دبئی کی ڈیجیٹل اکانومی، مالیاتی جدت اور کاروباری ماحول کو مزید مضبوط بنانے کے وسیع تر وژن کا حصہ ہے، اس حکمت عملی کے تحت سرکاری ادائیگیوں میں ڈیجیٹل نظام کو مزید مکمل بنایا جا رہا ہے، جبکہ ریٹیل، ریستوران، خدمات اور چھوٹے کاروباروں میں کارڈ، موبائل پے اور ڈیجیٹل والٹ کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
سرکاری حکمت عملی کے مطابق 2023 میں دبئی حکومت کے 97 فیصد لین دین پہلے ہی ڈیجیٹل تھے اور اس تبدیلی سے 2026 تک سالانہ 8 ارب درہم سے زیادہ معاشی اثر پیدا ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، یہ پیش رفت دبئی کے روزمرہ مالی نظام میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہے، خاص طور پر رہائشیوں، ملازمین، چھوٹے تاجروں اور تارکین وطن کے لیے۔
پاکستانی کمیونٹی کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ روزمرہ ادائیگیوں، خدماتی بلوں، خریداری اور ترسیلات کے لیے ڈیجیٹل چینلز کی اہمیت مزید بڑھے گی، جبکہ کیش پر انحصار بتدریج کم ہوتا جائے گا، اس خبر کے زاویے سے دبئی خود کو ایک اسمارٹ، کم نقد اور زیادہ مربوط شہری معیشت کے طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔